قصور میں مظاہرے جاری، حالات کشیدہ

قصور میں کمسن زینب کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم کی گرفتاری کے لیے مظاہروں کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری ہے

جمعرات کو مظاہروں کا آغاز زینب کی رہائش گاہ کے باہر سے ہوا

ڈنڈوں سے لیس مظاہرین نے ضلعی ہسپتال کا رخ کیا اور وہاں لگے پینر پھاڑ دیے

پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی جمعرات کو قصور پہنچے اور زینب کے اہلخانہ سے ملاقات کی

بدھ کو زینب کے جنازے میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی تھی

زینب کی تدفین بدھ کی رات ان کے والدین کی سعودی عرب سے واپسی پر عمل میں لائی گئی

زینب کی ہلاکت کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں قاتل کی گرفتاری کے مطالبے کے علاوہ حکومت مخالف نعرے بازی بھی ہوتی رہی

مظاہرین میں عام شہریوں کی بڑی تعداد شامل رہی جنھیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے طاقت کا استعمال کیا

زینب کی ہلاکت کے خلاف قصور کی گلی محلوں میں بھی احتجاجی پوسٹر اور بینر لگائے گئے ہیں

بدھ کو ہونے والے پرتشدد احتجاج کے بعد ضلع میں سرکاری عمارتوں کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

۔