امریکہ کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ اور فوجی تعاون معطل کر دیا: وزیر دفاع

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/@PID.GOV.OFFICIAL
امریکہ کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلے اور فوجی تعاون جس کے بارے میں پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ اسے معطل کر دیا گیا ہے اس کو وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔
خرم دستگیر کا بیان حکومتِ پاکستان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کیا گیا جبکہ امریکہ کے ساتھ فوجی تعاون اور خفیہ معلومات کے تبادلے کو پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ہفتے وار بریفنگ میں انتہائی اہم قرار دیا۔
وزیرِ دفاع خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں اور وہ امن کو قائم رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
دوسری جانب دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعاون خطے میں امن اور خاص طور پر افغانستان میں استحکام کے لیے بہت ضروری ہے۔
دفتر خارجہ کی ہفتے وار میڈیا بریفنگ میں ترجمان کا کہنا تھا کہ مشترکہ مفادات کے مختلف معاملات پر دونوں ملکوں کا رابطہ برقرار ہے اور یہ مختلف سطح کا رابطہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ انٹیلیجنس معلومات کے تبادلے کی وجہ سے ہم خطے میں اپنی عملداری قائم اور القاعدہ کو تباہ کر سکے ہیں۔
تاہم ڈاکٹر فیصل کا یہ بھی کہنا تھا کہ مستقل امن کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا احترام ضروری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 16 برس سے امریکہ کی ہر ممکن مدد کر رہا ہے اور خطے میں امن کے لیے اس رشتے کا قائم رہنا انتہائی اہم ہے۔
رواں ماہ کے آغاز پر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے پر اس کی تقریباً تمام سکیورٹی امداد روک رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد پاکستانی حکومت کو یہ بتانا ہے کہ اگر وہ امریکہ کے اتحادی نہیں بنتے تو معاملات پہلے کی طرح نہیں رہیں گے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر دفاع نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ از سرنو سٹریٹیجگ ڈائلاگ شروع کرے اور پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز رویے سے گریز کرے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/Govt of Pakistan
انھوں نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا کہ خطے میں سے القاعدہ کو امریکہ کے ساتھ پاکستانی تعاون کی بدولت ہی ختم کیا گیا۔
خیال رہے کہ اس قبل پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بھی امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کو دیے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کا امریکہ کے ساتھ اتحاد ختم ہو گیا ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’ہمارا امریکہ کے ساتھ کسی قسم کا کوئی اتحاد نہیں ہے۔ اتحادی اس طرح سے پیش نہیں آتے۔‘
اس سارے معاملے کا آغاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سال نو کے آغاز پر ہی کی جانے والی اس ٹویٹ سے ہوا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی میں اربوں ڈالر کی امداد لینے کے باوجود پاکستان نے امریکہ کو سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ہے۔
ان کے اس بیان کے بعد امریکہ نے پاکستان کی عسکری امداد اس وقت تک معطل کرنے کا اعلان کیا تھا جب کہ وہ اپنی سرزمین پر حقانی نیٹ ورک سمیت ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کرتا جن کے خلاف کارروائی کا امریکہ خواہشمند ہے۔









