آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری تحریک عدم اعتماد سے قبل مستعفی ہو گئے
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری نے اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کیے جانے سے کچھ دیر قبل اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کے حکام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے استعفے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ثنا اللہ زہری نے منگل کو صوبے کے گورنر سے ملاقات میں انھیں اپنا استعفیٰ پیش کیا۔
چیف سیکریٹری بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق گورنر بلوچستان نے یہ استعفیٰ منظور کر لیا ہے جس کے بعد کابینہ بھی تحلیل ہو گئی ہے۔
استعفے کے بعد ایک بیان میں ثنا اللہ زہری نے کہا ہے کہ ان کے چند ساتھیوں نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جس کے بعد انھوں نے ان کے تحفظات ہر ممکن دور کر نے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں محسوس ہو رہا ہے کہ اراکین اسمبلی کی کافی تعداد ان کی قیادت سے مطمئن نہیں اس لیے وہ ان پر زبردستی مسلط نہیں ہونا چاہتے اور وزارت اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہورہے ہیں۔
انھوں نے آخر میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ صوبے میں سیاسی عمل جاری رہے اور صوبہ آگے بڑھے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد 14 اراکین کے دستخطوں کے ساتھ دو جنوری کو اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائی گئی تھی اور یہ آج بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی جانی تھی۔
اس تحریک عدم اعتماد پر ایک آزاد رکن اسمبلی کے علاوہ جن جماعتوں کے اراکین کے دستخط تھے ان میں ق لیگ، جمعیت العلمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، مجلس وحدت المسلمین اور نیشنل پارٹی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگرچہ تحریک عدم اعتماد پر وزیر اعلیٰ کی اپنی جماعت اور مخلوط حکومت میں شامل سب سے بڑی جماعت ن لیگ کے اراکین کے دستخط نہیں تھے تاہم تحریک جمع ہونے کے بعد وزیراعلیٰ زہری کی کابینہ کے چھ ارکان مستعفی ہو گئے تھے۔
اسی بارے میں مزید پڑھیے
کابینہ چھوڑنے والوں میں سے پانچ کا تعلق ن لیگ جبکہ ایک کا تعلق ق لیگ سے تھا۔
نواب ثناء اللہ زہری کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی پیر کو کوئٹہ آئے تھے تاہم ن لیگ کے منحرف اراکین نے ان کی سربراہی میں ہونے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔
وزیر اعظم کی صدارت میں گورنر ہاؤس میں جو اجلاس ہوا اس میں ن لیگ کے 21 اراکین میں سے وزیر اعلیٰ سمیت صرف سات اراکین شریک ہوئے جبکہ 14اراکین غائب تھے۔
اس صورتحال میں منگل کو وزیراعلیٰ زہری نے اپنی اتحادی جماعت پشتونخواہ میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے ملاقات کے بعد مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔
وزیراعلیٰ پر عدم اعتماد کی وجہ کیا بنی؟
نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی شکل میں اچانک یہ بحران کیوں پیدا ہوا۔ حزب اختلاف کی بجائے خود ان کی اپنی پارٹی ن لیگ اور ق لیگ کے اراکین اس میں کیوں پیش پیش رہے۔ اس کے بارے میں مختلف آرا ہیں۔
ثنا اللہ زہری کے مخالفین اس کا ذمہ دار خود ان کو ٹھہراتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے دور میں سب سے زیادہ اہمیت مخلوط حکومت میں شامل دوسری بڑی جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو دی۔
کابینہ سے مستعفی ہونے والے ن لیگ کے رکن پرنس احمد علی کہتے ہیں کہ پشتونخوا میپ کے اراکین کے حلقوں کے مسائل حل ہوتے گئے جبکہ ن لیگ کے اراکین کے حلقوں کے مسائل بڑھتے گئے۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے علاوہ بعض دیگر اہم محکمے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے پاس ہیں۔
منحرف اراکین کے مطابق حکومت سے سیاسی حوالے سے سب سے زیادہ فوائد پشتونخوا میپ نے اٹھائے اور ترقیاتی منصوبوں کا ایک بڑا حصہ اپنی پارٹی کے اراکین کے حلقوں میں منتقل کیا۔
اس کے علاوہ ثنا اللہ زہری پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ کئی منافع بخش محکمے اپنے پاس رکھنے کے علاوہ وہ زیادہ تر وہ بلوچستان سے باہر رہے۔
تاہم پشتونخوا میپ، ن لیگ میں سابق وزیر اعلیٰ کے حامی اور زیادہ تر مبصرین ٹائمنگز کے حوالے سے تحریک عدم اعتماد کو ایک سازش قرار دیتے رہے۔
پشتونخوا میپ کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ کا کہنا ہے کہ ’اس کا مقصد سینیٹ کے انتخابات کا راستہ روکنا اور ملک سے جمہوری بساط کو لپیٹنے کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ بحران پیدا کر کے ملک میں ٹیکنوکریٹس کی حکومت لانے کی سازش کی جارہی ہے۔