آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلوچستان: ‘استعفوں کا سینیٹ انتخابات سے تعلق نہیں‘
بلوچستان کی حکومت جس اچانک سیاسی بحران سے دوچار ہوئی ہے ناراض اراکین اسمبلی اس کی وجہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی کارکردگی اور رویے کو قرار دے رہے ہیں تاہم دوسری جانب ایسی آرا بھی سامنے آ رہی ہیں جو اس بحران کے تانے بانے سینیٹ کی آئندہ انتخابات سے جوڑ رہے ہیں۔
بلوچستان حکومت کے بظاہر بحران کی ایک وجہ وہ تحریک عدم اعتماد بنی جو کہ 14اراکین کے دستخطوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائی گئی۔
اس قرارداد پر حزب اختلاف کی تین جماعتوں کے علاوہ خود حکومت میں شامل تین جماعتوں ق لیگ، مجلس وحدت المسلمین اور نیشنل پارٹی کے اراکین نے دستخط کیے ہیں۔ اگرچہ نیشنل پارٹی مخلوط حکومت میں شامل ہے اور پارٹی نے وزیر اعلیٰ کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان بھی کیا ہے لیکن اس کے ایک رکن میر خالد لانگو نے عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کیے ہیں۔
تحریک عدم اعتماد پر بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل ن لیگ کے اراکین کے دستخط تو نہیں ہیں لیکن تحریک التوا جمع ہونے کے چند گھنٹے بعد ن لیگ سے تعلق رکھنے والے تین مشیر و وزیر اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔
مستعفی ہونے والے مشیر پرنس احمد علی کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت میں ن لیگ کی اکثریت تھی لیکن ان کو وہ اہمیت نہیں دی جارہی تھی جو کہ دوسری بڑی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی کو دی جارہی تھی ۔
ان کے بقول پختونخوا میپ کے اراکین کے حلقوں کے مسائل حل ہوتے گئے جبکہ ن لیگ کے اراکین کے حلقوں کے مسائل بڑھتے گئے ۔ پرنس احمد علی نے بہرحال اس رائے سے اتفاق نہیں کیا کہ ان کے استعفوں کا سینیٹ کے آئندہ انتخابات سے کوئی تعلق ہے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پرنس احمد علی کے مطابق یہ مسئلہ پہلے سے ہی موجود تھا لیکن یہ الگ بات ہے کہ اس کا لاوا ایک ایسے وقت میں پھٹ گیا جب سینٹ کے الیکشن قریب ہیں۔
لیکن ڈان ٹی وی سے وابستہ بلوچستان کے سینئیر صحافی سید علی شاہ پرنس علی کی رائے سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کا وزیر اعلیٰ کی کارکردگی سے تعلق نظر نہیں آ رہا لیکن اگر نواب ثنا اللہ زہری کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تو ن لیگ کو بلوچستان سے سینیٹ میں وہ اکثریت حاصل نہیں ہوگی جس کی توقع کی جارہی ہے۔
سینیئر صحافی و تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار بھی اس سے متفق ہیں کہ موجودہ سیاسی بحران کا محرک سینیٹ کے انتخابات ہو سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بعض لوگ شاید یہ چاہتے ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات نہ ہوں یا ان میں ن لیگ کو اکثریت حاصل نہ ہو۔