آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مسلمان ملکوں کو امریکہ کی دوہری پالیسی پر چوکنا رہنے کی ضرورت ہے: ایران
ایران سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی شامخانی نے کہا ہے کہ کسی ملک کو پاک ایران تعلقات میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ایران کی سرکاری ایجنسی ارنا کے مطابق انھوں نے یہ بات تہران میں پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ سے ملاقات کے دوران کہی۔
علی شمخانی نے کہا کہ مسلم ممالک کو امریکہ کی دوہری سکیورٹی پالیسی پر چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم کسی ملک کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہتھیاروں کی فروخت، کرائے کے دہشت گردوں اور سرحدوں کو غیر محفوظ کر کے اسلام آباد اور تہران کے تعلقات کو خراب کرے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق اس ملاقات میں پاکستانی قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ مسلمانوں کو غیر ملکی سازشوں سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے جن کا مقصد ان کے درمیان تصادم کرانا ہے۔
پاکستان اورایران نے پائیدار سرحدی نگرانی ' منشیات' اسلحہ اور انسانی سمگلنگ کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کرنے اور معاشی امور میں بھی تعاون پر اتفاق کیا۔
خیال رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدہ تعلقات کے تناظر میں پاکستان کی خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ جن میں ایران کے علاوہ چین اور روس بھی شامل ہیں، تعلقات کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
گذشتہ ہفتے کے دوران ہی پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جنگ نے بھی جی ایچ کیو کا دورہ کر کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے ملاقات کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئی ایس پی آر کے مطابق اس ملاقات میں خطے کے جیو سٹریٹیجیکل حالات پر بات چیت کی گئی۔
سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے بھی گذشتہ روز کراچی میں فارن پالیسی کے موضوع پر انسٹی ٹیو آف بزنس ایڈمنسٹریشن دی گئی ایک بریفنگ کے دوران اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’پاکستان کو امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعلقات بڑھانے کی ضرورت ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی ڈیفینس سیکریٹری نے پینٹاگون میں بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں ہیں تاہم پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے وال سٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان پر پابندیوں کے بعد وہ سمجھتے ہیں کہ ’ہمارا کوئی اتحاد نہیں۔۔۔ اتحادی ایسا رویہ نہیں اپناتے۔‘