پاکستان امریکہ تعلقات، بیان بدلتے ہیں لیکن عینک نہیں

اگرچہ پاکستان اور امریکہ کے نرم گرم تعلقات کی تاریخ صرف افغانستان تک محدود نہیں، لیکن حالیہ برسوں میں دونوں اکثر ایک دوسرے کو ایک ہی عینک سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دیکھنے والے دونوں جانب تبدیل ہوتے رہے ہیں، لیکن عینک نہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی جانب امریکی پالیسی اور بیانات میں سختی زیادہ دکھائی دے رہی ہے۔

اس سال امریکہ کی جانب سے کیسے بیانات سامنے آئے، ان کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے حوالے سے واشنگٹن کی پالیسی آخر ہے کیا۔

21 اگست 2017

صدارت میں آنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی ماہ کی تاخیر کے بعد جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’امریکہ اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔‘

13 اکتوبر 2017

صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی شہری کیٹلن کولمین، ان کے شوہر جوشوا بوئل اور تین بچوں کو افغان طالبان سے بازیاب کرانے پر پاکستان کی تعریف کی۔ اس موقعہ پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’آج وہ آزاد ہیں۔ یہ پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات میں ایک مثبت لمحہ ہے۔ ہم باقی یرغمالیوں کی بازیابی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں میں اس طرز کے تعاون کی امید کرتے ہیں۔‘

9 نومبر 2017

افغانستان میں نیٹو کی قیادت میں موجود اتحادی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکولسن کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی افغانستان سے متعلق پالیسی کے اعلان کے بعد سے پاکستان کے رویے میں کسی تبدیلی کے آثار نہیں دیکھے گئے۔

’نہیں میں نے ان کے رویے میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں دیکھی ہے۔ ہم پاکستان کے ساتھ انتہائی اعلٰی سطحوں پر ان دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کے لیے رابطے میں ہیں۔‘

24 نومبر 2017

جماعت الدعوہ کے رہنما حافظ سعید کی عدالت کے حکم پر نظربندی کے خاتمے کے ردعمل میں امریکہ نے اپنی ناراضی کا اظہار کچھ یوں کیا کہ ’لشکر طیبہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ انہیں گرفتار کرکے ان پر مقدمہ چلائے۔‘

اس کے بعد، جنرل میٹس کے پاکستان کے دورے سے دو دن قبل دی رونلڈ ریگن فاؤنڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے پاکستان سے شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ دہرایا۔ ان کا اشارہ یقیناً حقانی نیٹ ورک کے مبینہ ٹھکانوں کی جانب تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر پاکستان ایسا نہیں کرتا تو امریکہ خود انہیں ختم کرنے کے لیے ہر قدم اٹھائے گا۔‘

دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ امریکی سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے ہمیشہ سخت بیانات ہی دیکھنے کو ملے ہیں لیکن سویلین اہلکار قدرے نرم لہجہ اپنائے رکھے ہیں۔ اکثر لوگ اسے امریکی انتظامیہ کے اندر گُڈ کاپ، بیڈ کاپ‘ کی حکمت علمی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ایک مثبت بیان امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی جانب سے گزشتہ دنوں دورۂ پاکستان کے وقت سامنے آیا تھا جس میں انھوں نے پاکستان کی کاوشوں کی تعریف کی تھی۔