آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آرمی چیف تاریخ میں پہلی بار سینیٹ کے روبرو ہوں گے
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان کے آرمی چیف منگل کو ایوان بالا کو قومی سلامتی اور حالیہ بیرونی دوروں کے حوالے سے بند کمرہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
سینیٹ سیکریٹیریٹ کی جانب سے اتوار کو جاری ہونے والے تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں نیشنل سکیورٹی صورتحال اور خطے میں ہونے والی پیش رفت اور حالیہ بیرونی دوروں کے حوالے سے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور ڈی جی ملٹری آپریشن ایوان کو اعتماد میں لیں گے۔
نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ ایوان بالا کو سینیٹ کمیٹی میں تبدیل کر دیا جائے گا اور آرمی چیف بریفنگ دیں گے۔
خیال رہے کہ لیڈر آف دی ہاؤس راجہ ظفر الحق نے خطے میں ابھرتی ہوئی صورتحال اور حقائق اور امریکہ کے کردار کی روشنی میں پالیسی گائیڈ لائن کی تیاری سے متعلق تحریک پیش کی تھی۔
بی بی سی سے گفتگو میں راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اب تک کوئی ایسی کثیر الجہتی یا مستند بریفنگ نہیں ہوئی یہ بہت اہم دن ہوگا جب یہ کارروائی ہو گی۔
'کچھ ملاقاتیں اجتماعی طور پر حکومت کی طرف سے کچھ امریکی سیکریٹری ڈیفینس کی طرف سے، کچھ آرمی چیف کی جانب سے ہوئی ہیں۔ آرمی چیف افغانستان بھی گئے تھے، وسط ایشیا کا دورہ بھی کیا تھا اور چین کے لوگ بھی آئے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر سینیٹ کو بریف کیا جائے تو پوری تصویر سمجھنے میں مدد ملے گی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سینیٹ کی کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے بعد آرمی چیف کا ملکی تاریخ میں پہلی بار سینیٹ میں آنا، پاکستان کی موجودہ صورتحال اور سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے بہت اہم ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے وزیراعظم کے ساتھ سعودی عرب کا دورہ کیا اور سیکریٹری خارجہ کے ساتھ ایران اور افغانستان کا دورہ بھی کیا۔ اب ان دوروں کی تفاصیل بھی بتائی جائیں گی اور افغانستان اور انڈیا کے ساتھ سرحدی صورتحال بھی بتائی جائے گی۔
اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ٹی او آرز کو خفیہ رکھنے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان اور امریکہ کی انتظامیہ کی جانب سے سفارتی دورے تو کیے جاتے ہیں تاہم ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے لیے ابتدا سے ہی سخت پالیسی اپنائی گئی۔
اسی طرح پاک افغان اور پاک انڈیا سرحد پر کشیدگی اور دیگر تنازعات کسی حل کی طرف بڑھتے دکھائی نہیں دیتے۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو پاکستان کی بظاہر غیر جانبدارانہ پالیسی کے باوجود ملک کے سابق آرمی چیف کی سعودی اتحاد کی سربراہی کی وجہ سے ایران تو نالاں ہے ہی لیکن پاکستانی پارلیمان بھی ہر تھوڑے عرصے کے بعد اپنے تحفظات کا اظہار کرتی دکھائی دیتی ہے جس کی شنوائی شاید ہی ممکن ہو۔
حکومت اس سعودی اتحاد کے معاملے پر اس سے قبل بھی پارلیمان کو اعتماد میں لے چکی ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ آرمی چیف اس حوالے سے سینیٹ کی کمیٹی برائے دفاع کو پہلے ہی بریفنگ دے چکے ہیں اب یہ اچھا ہے کہ پورے سینیٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
'جنرل قمر باجوہ بڑے کھلے ڈلے آرمی چیف ہیں ان میں ایک عوامی ٹچ ہے اور لگی لپٹی کے بغیر کھل کر بات کرتے ہیں کوئی چیز پارلیمینٹیرینز سے چھپاتے نہیں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے دور میں خاص طور پر جو پارلیمینٹ اور فوج کا رابطہ بڑھا ہے یہ پاکستان کے لیے قومی سلامتی کے لیے بہت اچھا ہے۔ کیونکہ سب کا ایک پیچ پر ہونا ضروری ہے۔ چاہے وہ علاقائی صورتحال کے حوالے سے ہے یا بین الاقوامی صورتحال کے حوالے سے ہے۔'