’پاکستان خلیجی ملکوں کے معاملے پر غیر جانبدار رہے‘

قطر اور سعودی عرب کے اتحادیوں میں جاری کشیدگی سے پیدا ہونے والی صورت حال پر پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک متفقہ قرار داد میں اسلامی ممالک کو صبر سے کام لینے اور باہمی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انتہائی احتیاط سے لکھی گئی اس مختصر سی قرار داد میں نے حکومت کو اسلامی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کو کہا گیا۔

اس قرار داد کو جسے وفاقی وزیرِ قانون زاہد حامد نے ایوان میں پیش کیا اس میں دس اپریل سنہ دو ہزار پندرہ کی ایک متقفہ قرار داد کا ذکر بھی کیا گیا جس میں حکومت کو عرب اور خلیجی ملکوں کے درمیان تنازعات میں مکمل طور پر غیر جانبدارانہ موقف اختیار کرنے کی بات کی گئی تھی۔

اس قرار داد پر بحث کے دوران حزب اختلاف کے ارکان نے پاکستان کو غیر جانبدار رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کی چیف وپ شیرین مزاری نے کہا کہ پاکستان کو سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے عسکری اتحاد سے فوری طور پر نکل جانا چاہیے۔

شیریں مزاری نے کہا کہ قطر کے معاملے پر ڈرامہ کھیلا جارہا ہے اور سعودی اور قطر کے تناو پر امریکہ اور اسرائیل کا ایجنڈا نظر آرہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کو قطر کے معاملے پر غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو قطر عرب تناو پر واضح پوزیشن لینا ہوگی۔

اُنھوں نے کہا کہ قطر، عرب تناو پوری مسلم امہ کے لیے پریشان کن صورتحال ہے اور پاکستان کو اس صورتحال پر سونا نہیں چاہیے۔

اُنھوں نے ایرانی پارلیمان پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ’داعش‘ ایران میں پہنچ گئی ہے تو پاکستان خود کو محفوظ نہ سمجھے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔

سید نوید قمر نے کہا کہ حملے کے باوجود اجلاس جاری رکھنے پر ایرانی پارلیمان خراج تحسین کی مستحق ہے۔

حکمراں اتحاد میں شامل ختون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے ملک کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان تنہائی کا شکار ہوگیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ہمیں خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے علاوہ اب ہمیں پوری دنیا کے سامنے جرات سے بات کرنا ہوگی۔

اُنھوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب پاکستان سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کرے۔

محمود خان اچکزئی نے خطے کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر دشمنی کے بجائے دوستیاں کریں گے تو ملک بچے گا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی غلام احمد بلور نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی پارلیمان پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کے خلاف پاکستانی پارلیمان میں مذمتی قرارداد پیش کی جاسکتی ہے تو پھر افغانستان میں ہونے والے حالیہ شدت پسندی کے واقعات کے خلاف مذمتی قرار داد کیوں پیش نہیں کی جاسکتی۔

اُنھوں نے کہا کہ افغانستان بھی امت مسلمہ کا اتنا ہی اہم حصہ ہے جتنا ایران ہے۔

واضح رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی نے قومی سلامتی سے متعلق پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس 15 جون کو طلب کرر کھا ہے۔ اس اجلاس کے ایجنڈے میں قطر اور عرب ملکوں کے درمیان تناو کے معاملے کو بھی زیر بحث لایا جائے گا۔

دوسری جانب دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ موجودہ صورتحال کا بہتر حل نکل آئے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے خلیجی ممالک کے مابین جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امت مسلمہ کے اتحاد پر یقین رکھتا ہے۔

اُنھوں نے پاکستان پر دورے پر آئے ہوئے سات رکنی وفد کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا جبکہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وفد نے جس کی قیادت امیر قطر کے خصوصی ایلچی عبدالہادی مناالحاجری کر رہے تھے وزیراعظم سے ملاقات کی ہے اور یہ ملاقات وزیر اعظم کے قازقستان کے دورے پر جانے سے پہلے ہوئی تھی۔

اس ملاقات میں ملاقات میں قطر سعودی عرب کشیدگی پر بات چیت ہوئی جبکہ قطری وفد نے پاکستان سے مصالحتی کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔