'حکومت جو چاہے کرتی اسے شکست ہی ہونا تھی‘

    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

سوشلستان میں جو ہو رہا ہے اس پر کیا لکھیں اور کیا نہ لکھیں۔ ایک جانب فوج کے خلاف ہر قسم کے تبصرے اور کمنٹس لکھے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان جاری ’سرد جنگ‘ پر قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس ہفتے کے سوشلستان میں ہم اسی موضوع پر بات کریں گے۔

'اوکاڑہ کے کسان جرمن قومیت کے لوگ تھے'

سوشل میڈیا پر جہاں رینجرز کے ایک جنرل کے لفافے بانٹنے کی ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے وہیں اس پر سوال بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا اب فوج کھل کر سامنے آ چکی ہے؟

مزید پڑھیے

دوسری جانب فوج کے سربراہ کے اس بیان پر کہ ’ہم اپنے لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتے۔' سوشل میڈیا صارفین نے تصاویر کے ساتھ سوال کیا کہ ’کراچی میں قتل کیا جانے والا سرفراز یا اوکاڑہ کے کسان جرمن قومیت کے لوگ تھے؟'

پھر مسلم لیگ ن اور وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان جاری ’سرد جنگ‘ کے بارے میں سوالات کیے جا رہے ہیں جن میں ایک جانب پنجاب حکومت کے وزیر زعیم قادری کو خادم حسین رضوی سے مصافحہ کرتے اور ان کا منہ چومنے کی تصویر شیئر کی جا رہی۔ آج ہی ان کی پیر سیالوی کے ساتھ گفتگو کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جس میں وہ پنجابی میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ’شہباز شریف نے جو پیغام بھجوایا ہے وہ یہ ہے کہ میں نے تو سب سے پہلے کہا تھا کہ جس نے غلطی کی ہے اسے نکال دیں۔ میں اب سرخرو ہوں۔'

اس کے بعد پیر سیالوی مطالبہ کرتے ہیں کہ ’وزیر نہ صرف ٹی وی پر آکر معافی مانگیں بلکہ دوبارہ مسلمان ہوں اور کلمہ پڑھیں۔'

تیسرا محاذ مسلم لیگ ن کے سربراہ کے داماد کیپٹن صفدر نے کھولا ہوا ہے جن کے بیانات شیئر کیے جا رہے ہیں کہ یہ ’دھرنا نہیں تھا بلکہ عاشقان کی ایک محفل تھی' ایک اور جگہ انہوں نے کہا کہ ’دھرنا نہیں یہ ایک مشن کا آغاز ہے‘۔

اس سارے معاملے پر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رائے کتنی منقسم ہو گی۔

گُل بخاری نے کہا ’ایک بار پھر فوج نے فتح حاصل کر لی۔ آرڈر تھا دھرنا اٹھانے کا مگر وہ تو فوج کے اپنے لوگ تھے، تو حکومت اٹھا دی۔'

عاصمہ جہانگیر نے دھرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’دھرنا انٹرپرائز بہت منافع بخش سیاسی کاروبار ہے۔ ملک کو یرغمال بنا لیں، اپنی شرائط منوائیں اور پھر واپسی کا کرایہ اور کمر پر تھپکی وصول کریں۔ عسکری دھرنا اینڈ کمپنی۔ سب سے طاقتور سیاسی پریشر گروپ۔'

عاصمہ نے اس بات کی بھی تردید کی کہ اگر حکومت اس پر کوئی کارروائی کرتی یا پہلے کرتی اور لکھا کہ ’یہ بیانیہ کہ اگر حکومت پہلے کارروائی کرتی تو اس سب سے بچا جا سکتا تھا کھوکھلی ہے۔ حکومت جو چاہے کرتی اسے شکست ہی ہونا تھی۔ اور وہ خود ہی جمہوریت کی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کو تیار ہو گئے جسے ہماری اپنی فوج نے تیار کیا تھا اور اس کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ سب دن کی روشنی کی طرح واضح ہے۔'

عثمان احمد کا خیال تھا کہ ’اس صورتحال میں ہمارے اداروں نے ریاست کے کھلے اور اعلانیہ دشمنوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں اور یہ سب بہت ہی کمزوری کی حالت سے کیا ہے۔'

اور مشرف زیدی نے لکھا ’ایک جدید اور کثیرالجہتی ریاست کا خواب ختم ہوا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح زندہ باد۔ ان کا خواب مر گیا۔ ان کا پاکستان ختم ہوا۔'

اس ہفتے کی تصاویر