اسلام آباد دھرنا : ’آرمی چیف نے قوم کو بڑے سانحے سے بچا لیا‘

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

حکومت اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کے درمیان دھرنا ختم کرنے کے سلسلے میں چھ نکاتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے مطابق فوج نے معاہدہ کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے، تاہم تحریک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دھرنا تب ختم ہو گا جب عمل درآمد شروع ہو گا۔

خادم حسین رضوی اس وقت بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ فیض آباد میں موجود ہیں تاہم ملک کے مختلف علاقوں میں موجود دھرنے کے شرکا اب اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں۔

دھرنے کے مقام پر یہ اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ واپسی کے لیے پانچ بسیں آگئی ہیں۔

پیر کی صبح لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ خادم حسین رضوی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'جنرل صاحب ضامن بنے۔ انھوں نے ٹیم بھجوائی۔ ہمارا معاہدہ ان کے ساتھ ہوا۔ زاہد حامد کا استعفیٰ ہمارے شہدا کے خون کی قیمت نہیں ہے۔ یہ استعفیٰ صرف ختم نبوت کی وجہ سے ہے۔ ہم جنرل صاحب کو جو چاہتے کہہ سکتے تھے، لیکن لوگوں نے کہنا تھا کہ یہ حکومت ہٹانے آئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'جو الزامات لگے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ آرمی چیف نے خصوصی نمائندے بھیجے۔ ہم نے بتایا کہ انھوں نے ہمارے بیسیوں کارکنان کو شہید کیا ہے۔ ملک کے حالات خرابی کی طرف جا رہے تھے۔‘

خادم حسین رضوی نے کہا کہ ہم نے معاہدے کے ضامن لوگوں کو بتایا کہ اگر ہمارے یہ مطالبات پورے ہو جائیں گے تو دھرنا دینے والے لوگ اپنے گھروں کو تشریف لے جائیں۔

یہ بھی پڑھیے

خادم حسین نے میڈیا کے نمائندوں سے سوال کیا کہ ’آپ یہ خبریں کیوں دے رہے ہیں کہ ہائی کورٹ کے حکم پر دھرنا ختم کر دیا گیا ہے؟‘

انھوں نے کہا کہ دھرنا ختم کرنے کا باضابطہ اعلان تو تبھی ہو گا جب عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

’12 گھنٹے تک ہماری بات ہے، ہمارے جتنے کارکن جیلوں میں ہیں، ہمارے جتنے کارکن پنڈی اسلام آباد کی جیلوں میں ہیں، جب وہ آ جائیں گے تو اس دوران ہم چیزیں سمیٹ کر چل پڑیں گے۔‘

دھرنا دینے والی جماعت اپنے ہلاک اور لاپتہ ہونے والے کارکنان کی تعداد نہیں بتا سکی اور یہی کہا کہ بیسیوں لاپتہ اور ہلاک ہوئے۔

’میڈیا کیا لینے آیا ہے؟‘

انھوں نے فیس بک لائیو کے ذریعے کی جانے والی پریس کانفرنس کی پاکستانی میڈیا پر لائیو کوریج نہ ملنے پر پرہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ 'نہیں کوئی چلانا چاہتا، آپ نے ہماروقت ضائع کیا ہے۔ پہلے بتاتے، ہم نے بات ہی نہیں کرنی تھی۔'

انھوں نے کہا کہ اب چلاؤ ،پھر ہم تمھیں اٹھنے دیں گے۔‘ تاہم بعد میں انھوں نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ انھیں کوئی کچھ نہیں کہے گا۔

اس معاہدے پر دو حکومتی ذمہ داران وزیر داخلہ اور سیکریٹری داخلہ کے دستخط موجود ہیں، جبکہ دھرنا دینے والی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ خادم حسین رضوی، جماعت کے سرپرست اعلیٰ پیر محمد افضل قادری اور مرکزی ناظم اعلیٰ محمد وحید نور کے دستخط موجود ہیں۔

چھ نکات پر مشتمل اس معاہدے کے آخر میں یہ درج ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے ملک کو بڑے سانحے سے بچا لیا ہے جبکہ بتایا گیا ہے کہ یہ معاہدہ کرنے میں فوج کے حاضر سروس افسر میجر جنرل فیض حمید کی مدد شامل تھی۔

معاہدے میں درج ہے: 'یہ تمام معاہدہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب اور ان کے نمائندے کی خصوصی کاوشوں کے ذریعے طے پایا، جس کے لیے ہم ان کے مشکور ہیں کہ انھوں نے قوم کو ایک بہت بڑے سانحہ سے بچا لیا۔'

وزیرِ قانون زاہد حامد کی برطرفی کا پہلا مطالبہ تھا تاہم تحریک لبیک کا کہنا ہے کہ وہ ان کے بارے میں کوئی فتویٰ جاری نہیں کرے گی۔

اس معاہدے کی نقل ملنے سے قبل ہی وزیر قانون کے رضا کارانہ طور پر مستعفی ہونے کی خبر سرکاری میڈیا نے جاری کر دی تھی۔

تحریک لبیک کی جانب سے معاہدے میں الیکشن ایکٹ میں سیون بی اور سیون سی اور حلف نامے کی شمولیت پر حکومت کی ستائش کی ہے تاہم یہ بھی کہا ہے کہ اس میں ترمیم کرنے والوں کا پتہ لگانے کے لیے راجہ ظفر الحق کی رپورٹ 30 دن میں منظر عام پر لائی جائے۔

اس سے قبل بی بی سی سے گفتگو میں راجہ ظفر الحق نے بتایا تھا کہ ساڑھے تین سال تک اس قانون کے حوالے سے کمیٹی کے اجلاس ہوئے اور ذمہ داران کا پتہ لگانے کے لیے وقت چاہیے۔

معاہدے میں دھرنا دینے والی جماعت کے خلاف مقدمات اور گرفتار ہونے والے افراد کو تین روز میں ختم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

25 نومبر یعنی دھرنے کے حلاف حکومتی آپریشن کے لیے انکوائری بورڈ کی تشکیل اور 30 دن میں رپورٹ دینے کو کہا گیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں خادم حسین رضوی نے تحفظ ناموس رسالت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ ووٹر لسٹ سے متعلق تحفظات دور کرنے، نو نومبر کی چھٹی، لاؤڈ سپیکر کے استعمال، رانا ثنا اللہ کے بیان کے حوالے سے بورڈ کی تشکیل سمیت متعدد سابقہ مطالبات کو دہرایا اور اس حوالے سے کمیٹیاں بنانے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب پیر کی صبح وفاقی وزیر داخلہ ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق کمشنر اسلام آباد نے ہائی کورٹ میں پیشی کے موقعے پر بتایا کہ معاہدہ طے پا گیا ہے اور کچھ ہی دیر میں فیض آباد انٹرچینج کو خالی کر لیا جائے گا۔‘

اس موقعے پر وزیر داخلہ نے بھی کہا کہ ’کچھ ہی دیر میں دھرنا ختم ہو جائے گا۔‘

کیس کی سماعت اگلے پیر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔