کٹاس راج: ’تالاب میں پانی بھریں چاہے مشکیں بھر بھر لائیں‘

،تصویر کا ذریعہUMAYR MASUD
پاکستان کی سپریم کورٹ نے صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں ہندو برادری کی سب سے بڑی عبادت گاہ کٹاس راج کو پانی فراہم کرنے اور اس کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا حکم دیا ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ اس مندر کو پانی فراہم کیا جائے چاہے اس کے لیے دس کنویں ہی کیوں نہ بند کرنا پڑیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جمعرات کو کٹاس راج مندر کی حالت زار سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ہندو بھی اس ملک کے شہری ہیں اور کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہندو برادری کی سب سے بڑی عبادت گاہ کی حفاظت کے لیے اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
یہ بھی پڑھیے
اُنھوں نے کہا کہ یہ صرف ہندوؤں کی عبادت گاہ ہی نہیں ہے بلکہ پاکستان کا قومی ورثہ بھی ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کٹاس راج کے مندر کے تالاب میں پانی نہیں ہے جس کی وجہ سے شدید مشکلات درپیش ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت نے پنجاب حکومت اور چکوال کی ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا کہ ایک ہفتے میں تالاب پانی سے بھرنا چاہیے چاہے اس کے لیے مشکیں بھر بھر کر لے آئیں۔
عدالت میں پنجاب حکومت اور چکوال کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ایک رپورٹ پیش کی گئی جس پر سپریم کورٹ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ کٹاس راج مندر کے پاس ایک سمینٹ کی فیکٹری ہے اور اطلاعات کے مطابق پانی کا ایک بڑا ذخیرہ اس فیکٹری میں استعمال ہو رہا ہے جس پر چیف جسٹس نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو سمینٹ فیکٹری کو بھی نوٹس جاری کر دیں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موٹر وے دیکھا جائے تو کٹاس راج کے قریب پہاڑوں کو کاٹ دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت یہ نہیں کہتی کہ فیکٹریاں نہیں لگنی چاہییں، لیکن یہ اس جگہ پر ہونی چاہیے جہاں آبادی نہ ہو۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت ہندوؤں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گی چاہے اس کے لیے کسی بھی حد تک جانا پڑے۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر یہ معاملہ حل نہ ہو تو عدالت چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز کے علاوہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری کو بھی طلب کرسکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو کٹاس راج سے متعلق کمیٹی کا معاون مقرر کردیا ہے جبکہ اس از خود نوٹس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔








