آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسلام آباد میں مذہبی جماعتوں کا دھرنا، حکومت خاموش تماشائی کیوں؟
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعت تحریکِ لبیک یا رسول اللہ کے دھرنے کو ختم کرنے کے لیے راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ کی کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ یہ جماعت وزیر برائے قانون زاہد حامد کے استعفے کے بغیر مذاکرات کی میز پر آنے کو تیار ہی نہیں۔
حکام نے اس دھرنے میں شرکا کی تعداد 1500 سے دو ہزار بتائی ہے۔ دھرنے کی وجہ سے دونوں شہروں کے لاکھوں رہائشیوں کے روزمرہ معمولات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو میں لبیک یا رسول اللہ کی جانب سے بنائی گئی مذاکراتی ٹیم کے رکن عنایت الحق نے کہا کہ وزیر قانون کے مستعفی ہونے کے بعد ہی دیگر مطالبات پر مذاکرات کریں گے۔
'لوکل انتظامیہ نے ہم سے بارہا رابطہ کیا، ہمارا پہلا مطالبہ وزیر کے استعفے کا ہے، سیون سی اور بی کی پہلی حالت میں بحالی ہو، چاروں طرف اذان کے لیے لاؤڈ سپیکر لگانے کی اجازت ملے، آسیہ بی بی کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس کو تیزی سے چلایا جائے۔'
عنایت الحق نے کہا کہ سڑکیں بلاک ہونے کی وجہ سے انھیں عوام کی مشکلات کا احساس ہے لیکن اپنے مطالبات منوانے کے لیے ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو 12 ربیع الاول کو ملک بھر سے نکالے جانے والے جلوسوں کا رخ اسلام آباد کی جانب ہوجائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت اپنے وزیر کو عہدے سے کیوں نہیں ہٹا رہی؟
حکومت کے وزیر قانون نے ایوان میں خود آکر اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ نہ ان کی اور نہ ہی الیکشن ایکٹ کی تیاری میں شامل تمام جماعتوں کی ایسی کوئی کوشش تھی کہ وہ ختم نبوت کے حلف نامے میں کوئی ترمیم کرے۔
لیکن دھرنے کی طوالت اختیار کر جانے کے بعد وزیر قانون نے چند روز قبل ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنا وضاحتی بیان بھی دیا اور کہا کہ وہ مسلمان ہیں، عاشق رسول ہیں اور ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں۔
اس وقت اگر آپ اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی اور خارجی راستوں پر جا کر کھڑے ہوں تو پریشان حال شہریوں، سامان سے لدے ہوئے ٹرکوں کے علاوہ جو سب سے اذیت ناک آواز ہو گی وہ ایمبولینس کے سائرن کی ہو گی جسے راستہ دینا شاید کسی کے بس میں نہیں، نہ گاڑی چلانے والے کے اور نہ ہی باہر موجود ٹریفک وارڈن کے۔
راولپنڈی کے مکین کامران شیخ نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ ’معمول کے مطابق ساڑھے سات بجے گھر سے نکلتا ہوں اور آٹھ بجے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں واقع اپنے دفتر میں پہنچ جاتا ہوں لیکن دھرنے کی وجہ سے مجھے تین روز آدھے راستے سے ہی واپس گھر لوٹنا پڑا اور دفتر سے غیر حاضری ہوئی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج جب میں نے ہمت پکڑ کر دفتر جانے کی کوشش کی تو مجھے ساڑھے تین سے پونے چار گھنٹے لگے۔ واپسی کے لیے میں نے متبادل روٹ استعمال کیا لیکن مجھے ایک بار پھر ٹریفک کے ازدہادم کا سامنا کرنا پڑا اور تقریباً تین گھنٹوں میں گھر پہنچا۔ کیا حکومت شہریوں کے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔‘
راولپنڈی کے شہری احمد کہتے ہیں کہ دفتر سے چھٹی نہیں ملتی اور کچھ لوگوں کو طویل راستہ پیدل چل کر عبور کرنا پڑتا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ختم نبوت ایک حساس معاملہ ہے اور اسی وجہ سے پولیس اہلکار بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
دھرنے کی وجہ تعلیمی سرگرمیوں پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے اور نہ اساتذہ وقت پر سکول پہنچ پا رہے ہیں اور نہ ہی طلبا۔
اسلام آباد میں نوکری کرنے والی نسرین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ غلطی سے دھرنے کے مقام کے قریب سے گزریں جس کے نتیجے میں مظاہرین میں سے کچھ نے اپنا جارحانہ انداز اپناتے ہوئے ان کو مارنے کے لیے پتھر اٹھائے لیکن بعد میں معاملہ رفع دفع ہو گیا۔
نسرین نے کہا کہ وہ اس دھرنے کے باعث رات اپنے گھر کے بجائے اپنے ایک رشتے دار کے گھر قیام کرنے پر مجبور ہوئیں۔
ان مظاہروں سے ٹریفک کی مشکلات پیدا ہونے کے سبب راولپنڈی کی مکین مہوش خان نے ایک وٹس ایپ گروپ بنایا ہے اور اس میں شامل لوگ ایک دوسرے کو سفر سے قبل نسبتاً بہتر راستوں سے آگاہ کرتے ہیں۔
پریشان حال شہریوں کا شکوہ ہے کہ حکومت آخر ان چند سو افراد کو دھرنے کے مقام سے پیچھے ہٹانے سے قاصر کیوں ہے؟
حکومت دھرنے میں شامل جماعتوں کا وزیر قانون کو ہٹانے کے مطالبے کو ماننے سے انکاری کیوں ہے، اس کا جواب حکام تو دینے سے گریزاں ہیں تاہم تحریک لبیک کے رہنما کا کہنا ہے کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر وزیر کو ہٹا دیا تو انھیں گستاخ رسول سمجھا جائے گا۔
تحریک لبیک کے رہنما کہتے ہیں کہ وہ وزیر قانون کو نااہل تو سمجھتے ہیں تاہم وہ 'ہم نے وفاقی وزیر پر یہ الزام نہیں لگایا کہ وہ گستاخ رسول ہیں۔‘
1974 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستانی آئین میں ترمیم ہوئی تھی اور ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔
سینیٹ میں قائد اعوان راجہ ظفر الحق نے سینیٹ کے اجلاس میں الیکشن ایکٹ پر سینیٹر حمد اللہ کی جانب سے کیے جانے والے اعتراض کی حمایت کی تھی وہ کہتے ہیں کہ پہلے جو قانون بنا اس میں کچھ خامیاں رہ گئی تھیں اور دھرنے کے شرکا سے بات چیت کے بجائے پہلے قانون کو درست کر لیں۔
بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ حکومت نے ایک نیا ڈرافٹ تیار کر کے دو تین دن پہلے کابینہ اجلاس سے اسے منظور کروایا ہے اور اس کے بعد اسے قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں جمع کروائی گئی
'جب قومی اسمبلی کا اجلاس ہوگا تو پہلے یہی بل پاس ہوگا اور پھر وہاں سے سینیٹ میں جائےگا۔'
اس احتجاجی دھرنے نے ایک بار پھر دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دھرنے کی یاد دلا دی ہے لیکن گذشتہ بار شہریوں کو آمدورفت کے لیے اتنی مشکلات کا سامنا نہیں تھا جس قدر اس بار ہے۔