آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسلام آباد: وزیر داخلہ کی امید پوری نہ ہو سکی، مذہبی جماعتوں کا دھرنا جاری
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے اتوار کو مذہبی جماعتوں کا دھرنا ختم کروانے کی امید پوری نہ ہو سکی ہے اور دارالحکومت میں مذہبی جماعتوں کا دھرنا تاحال جاری ہے۔
اس دھرنے کی وجہ سے راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والی مرکزی شاہراہ بدستور بند ہے اور شہریوں کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔
خیال رہے کہ مذہبی وسیاسی جماعتوں کے دھرنے کی وجہ سے گذشتہ چار روز سے ایکسپریس وے پر موجود فیض آباد پل ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند ہے۔
انتظامیہ نے ٹریفک کے لیے متبادل روٹس تو فراہم کیے ہیں تاہم اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت ملحقہ علاقوں کے مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
ان جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا موقف ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں حلف کے بارے میں جو ترمیم کی گئی تھی وہ ختم نبوت کے منافی تھی اس لیے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
اگرچہ حکومت نے اس ترمیم میں ہونے والی غلطی کو درست کرتے ہوئے حلف نامے کو اس کی پرانی حالت میں بحال کر دیا ہے تاہم مظاہرین وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے مستعفی ہونے کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
گذشتہ روز بی بی سی سے گفتگو میں وزیر داخلہ احسن اقبال نے بتایا تھا کہ پیغمبر اسلام کے نواسے امام حسین کے چہلم کے جلوس کی وجہ سے حکومت نہیں چاہتی تھی کہ کسی بھی قسم کی کوئی بد مزگی پیدا ہو کیونکہ اگر کوئی کارروائی ہوتی تو تنازع بن جاتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ’دھرنے والوں کو ہم نے سمجھایا ہے، ان کے مطالبات پر بات چیت کی ہے تو امید ہے کہ اتوارکی رات تک انھیں وہاں سے ہٹانے کامیاب ہو جائیں گے۔‘
کیا وزیر قانون زاہد حامد مستعفی ہو جائیں گے کیونکہ دھرنے کے شرکا کا مطالبہ یہی ہے؟
اس سوال کے جواب میں وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ مطالبہ کرنا ان کا حق ہے، اپنے مطالبے کے لیے احتجاج کرنا بھی ان کا حق ہے لیکن رکاوٹ ڈالنا جس سے شہریوں کی زندگی میں خلل پیدا ہو یہ قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ایک بچے کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ بچے سکول نہیں جا سکتے، لوگ دفتر نہیں پہنچ پاتے۔۔۔۔ اگر مظاہرہ کرنا ہے تو سائڈ پر بیٹھ کر کریں۔ '
ان کا کہنا تھا کہ ’سب جماعتوں نے مل کر ایک قانون بنایا تھا۔ سب نے مل کر ڈرافٹ بنایا، قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ اس سے مطلب پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ سب جماعتوں نے واپس کیا اور کہا کہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس پر سوال بھی اٹھے۔ حلف نامہ اصل حالت میں بحال ہو چکا ہے۔‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ ابتدا میں انھوں نے تحریک لبیک کے اکابرین سے بات چیت کا ایک دور خود بھی کیا تھا اور اب دونوں جانب کے کچھ لوگ اس پر بات چیت کر رہے ہیں۔
'ہم کوشش کر رہے ہیں کہ انھیں سمجھائیں کہ جو حتم نبوت کو ماننے والے لوگ ہیں وہ لوگوں کے بنیادی حقوق کا خیال بھی رکھیں۔ حکومت پرامید ہے کہ وہ حکومتی وضاحت سے مطمعین ہوں گے اور پرامن رہیں گے۔'
حکام کا کہنا ہے کہ اس دھرنے میں 1500 سے 2000 کے قریب لوگ موجود ہیں تاہم حکومت کے پاس کسی بھی پرتشدد صورتحال سے نمٹنے کے لیےتمام سکیورٹی انتظامات موجود ہیں۔
یہ ریلی اسلام آباد جانے کے لیے کوشاں تھی تاہم انتظامیہ نے اسے فیض آباد پر روک لیا۔
وزیرداخلہ کے بیان کے برعکس حکومت کی جانب سے اب تک برتی جانے والی نرمی کی وجہ سے فیض آباد پر اب بھی تحریک لبیک کے رہنماؤں کے پرجوش خطابات جاری ہیں۔
ان جماعتوں کے خلاف مقدمات تو درج ہوئے ہیں لیکن گرفتاریوں کے حوالے سے تحریک لبیک کے ڈویژنل جنرل سیکریٹری مکمل طور پر آگاہ نہیں۔
بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ فیصل آباد اور راولپنڈی میں کچھ گرفتاریاں ہوئی ہیں تاہم وہ مکمل طور پر آگاہ نہیں۔