آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جنوبی وزیرستان میں کارروائی، 250 خاندان نقل مکانی پر مجبور
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے بعض علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے آپریشن شروع کیا جس سے تقریباً ڈھائی سو خاندان نقل مکانی کر کے متاثرین کے بکاخیل کیمپ پہنچے ہیں۔
یہ آپریشن تحصیل لدھا کے علاقے شکتوئی کے دو دیہاتوں میں چند روز پہلے شروع کیا گیا ہے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی گاڑیاں اچانک گاؤں سمل اور بابر پہنچی جہاں سے مقامی لوگوں کو گاڑیوں میں بکا خیل کیمپ منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ گاؤں جنوبی اور شمالی وزیرستان کی سرحد پر واقع ہے۔ جنوبی وزیرستان کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ان کے علاقے کے متاثرین کو ان کے اپنے علاقے میں پناہ دی جائے۔ بکا خیل کیمپ شمالی وزیرستان اور خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے درمیان واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس فوجی آپریشن کے نتیجے میں پہلے روز سترہ خاندان اور دوسرے روز 187 خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے جبکہ تیسرے روز پچاس خاندان بکا خیل کیمپ پہنچے تھے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں سنہ 2009 اور شمالی وزیرستان میں 2014 میں شروع کیے گئے فوجی آپریشن ضرب عضب کے دوران ان علاقوں میں فوجی کارروائیاں نہیں کی گئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ان علاقوں میں ان دنوں حکومت کے حمایتی طالبان کے ایک رہنما نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اس علاقے میں حکومت مخالف کوئی شدت پسند موجود نہیں ہیں اور نہ ہی انھیں اس علاقے میں آنے کی اجازت دی جائے گی۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ اب اچانک اس علاقے میں سکیورٹی فورسز نے فوجی کارروائی شروع کر دی ہے۔
مقامی رہنما سعید انور محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے پولیٹکل انتظامیہ کے حکام سے رابطے کیے ہیں اور جرگہ بھی منعقد کیا گیا ہے جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے تمام خاندانوں کو اپنے ہی کسی علاقے میں پناہ دی جائے ۔