پنجاب میں خواتین کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ

خواتین عدالتیں
،تصویر کا کیپشنیہ عدالتیں صوبے کے 36 اضلاع میں خواتین کے لیے قائم کیے جانے والے عدم تشدد کے سینٹرز میں قائم کی جائیں گی
    • مصنف, عمردراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کے سدِ باب کے لیے حکومتِ پنجاب نے صوبے میں ایسی خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں صرف خواتین جج مقرر کی جائیں گی اور وہ ہی ان خواتین کے خلاف جرائم کے مقدمات سنیں گی۔

ملتان میں رواں برس قائم کردہ جدید مرکز برائے تحفظِ خواتین میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران خواتین کی جانب سے 1,100 سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 700 صرف خواتین پر گھریلو تشدد سے متعلق تھیں۔

اس جدید سینٹر میں ایک ہی چھت تلے پولیس، پراسیکیوشن، میڈیکل اور نفسیاتی علاج کی سہولیات کی وجہ سے 900 سے زیادہ شکایات حل کر دی گئیں۔

حکام کے مطابق زیادہ شکایات سامنے آنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس سینٹر کو مکمل طور پر خواتین چلاتی ہیں۔

یہ عدالتیں صوبے کے 36 اضلاع میں خواتین کے لیے قائم کیے جانے والے عدم تشدد کے مراکز میں قائم کی جائیں گی۔ اس حوالے سے حال ہی میں پنجاب کے وزیرِ اعلٰی نے صوبے میں خواتین پر تشدد کے خلاف تحفظ کے قانون 2016 میں ضروری ترامیم لانے کی منظوری دی ہے۔

وزیرِ اعلٰی پنجاب کے خصوصی اصلاحاتی کمیٹی یا سپیشل ریفارم یونٹ کے سربراہ سلمان صوفی نے بی بی سی کو بتایا کہ اگلے دو ماہ کے اندر ان عدالتوں کا قیام ممکن ہو پائے گا۔ سنہ 2016 کے قانون میں ترامیم کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے اور اسے رواں سال دسمبر میں منظوری کے لیے پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔

ان کے مطابق درمیانی عرصے میں موجودہ قوانین کی بنیاد پر خصوصی عدالت صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں قائم کردہ پہلے سینٹر برائے تحفظِ خواتین میں قائم کر دی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں یہ سینٹر ضلعی سطح پر لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں قائم کیے جا رہے ہیں جہاں نئی خصوصی عدالتیں بھی ساتھ ہی قائم کر دی جائیں گی۔

سلمان صوفی کے مطابق ان مراکز میں ایک ہی چھت تلے قائم عدالتوں اور پراسیکیوٹر کے دفاتر قائم ہونے کی وجہ سے خواتین کے خلاف تشدد اور دیگر جرائم کے مقدمات میں فیصلے جلد کرنے میں مدد ملے گی۔

'جس دن شکایت موصول ہو گی اسی روز عدالتی کارروائی کا آغاز بھی ممکن ہو پائے گا۔ اس طرح مقدموں کا جلد نمٹانا بھی ممکن ہو گا۔ مقدمات کے فیصلے دو ہفتے کے اندر کرنے بھی ممکن ہوں گے۔'

ان کا کہنا تھا کہ نئ عدالتیں خصوصی طور پر پنجاب میں خواتین پر تشدد کے خلاف تحفظ کے قانون کے لیے قائم کی جا رہی ہیں اور جو بھی جرائم اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں یہ عدالتیں ان کی سماعت کریں گی۔

ان مقدمات میں خصوصاً مانیٹری آرڈر، پروٹیکشن آرڈر اور ریذیڈنسی آرڈر شامل ہوں گے۔ اس طرح دیوانی عدالتوں پر زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا اور وہ ان کے پاس آنے والے اہم نوعیت کے دیگر مقدمات پر بھی یکساں توجہ دے سکیں گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید کا کہنا تھا کہ اگر یہ عدالتیں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے والے اداروں کے قریب واقع ہوں گی تو یقیناٌ اس سے خواتین کو مدد مل سکے گی۔

'یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ یہ کتنی کامیاب ہوتی ہیں۔ تاہم ہمارے معاشرے میں عدم برداشت بہت زیادہ ہو چکا ہے۔ اگر خاوند کو باہر کوئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کا غصہ بھی وہ بیوی بچوں پر نکالتا ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ایسی عدالتوں کا قیام ایک مثبت قدم ہے۔'

ان کے مطابق سنہ 1964 کے فیملی کورٹ ایکٹ میں یہ شق موجود تھی کہ ہر ضلعے میں کم از کم ایک خاتون جج فیملی کورٹ میں ہو گی۔

جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید کا مزید کہنا تھا کہ جب خواتین جج آنا شروع ہو گئیں تو یہ تعداد بڑھا کر دو کر دی گئی۔

'ہمارے پاس خواتین جج موجود ہیں اور اگر یہ خواتین کے خلاف جرائم کے مقدمات سننا شروع کر دیں تو بہت سی خواتین بلا جھجک ان کے پاس جا کر مسائل بیان کر پائیں گی۔'

یاد رہے کہ ملتان میں قائم خواتین کے خصوصی سینٹر نے رواں برس کے آغاز میں کام کرنا شروع کیا تھا۔

سینٹر کی گذشتہ چھ ماہ کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق اس سینٹر کو 1,143 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 952 پر تصفیہ کیا گیا اور 17 پر ایف آئی آر درج کی گئیں۔

ان میں 752 شکایات گھریلو تشدد کی تھیں جبکہ ہراساں کرنے کے 68، طلاق کے 51، ریپ کے 36 اور 19 جان کے خطرے کی شکایات تھیں۔

سلمان صوفی کے مطابق ملتان سینٹر کی کامیابی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہاں کام کرنے والا تمام سٹاف خواتین پر مشتمل ہے۔

"ہم نے دیکھا کہ اگر چھ ماہ میں صرف ملتان ہی سے خواتین کے خلاف جرائم کی 1,100 سے زیادہ شکایات آئیں ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عورتیں عورتوں کو اپنی پریشانی بتانے میں اور بات کرنے میں آسانی محسوس کرتی ہیں۔'

اس بنا پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان جدید سینٹروں کے اندر یہ خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں جہاں پر صرف خواتین جج ہوں جو کہ خواتین کے مسائل سے آگاہ ہوں۔ اس طرح ان کے لیے خواتین کی شکایات سننا آسان ہو گا۔