آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
این اے چار کا انتخاب کس کےلیے آزمائش ؟
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئئ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
لاہور کے حلقے این اے 120 میں کانٹے دار مقابلے کے بعد مرکز اور خیبر پختونخوا میں برسر اقتدار حکمران جماعتوں نے اب پشاور کا حلقہ این اے چار میں بھی اپنی طاقت دکھانے کےلیے تمام تر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے جہاں دونوں جماعتوں کی طرف سے زیادہ سے زیادہ ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کےلیے وسائل کا بے دریغ استعمال کئے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔
تقریباً چار صوبائی اسمبلی کے حلقوں پر مشتمل قومی اسمبلی کے حلقے این اے چار پر ضمنی انتخاب جمعرات کو منعقد ہو رہا ہے جہاں ایک درجن سے زیادہ امیدوار ایک دوسرے کے خلاف مدمقابل ہیں۔
پشاور میں ہونے والے اس ضمنی الیکشن کو نہ صرف ایک آزمائش کے طورپر لیا جارہا ہے بلکہ توقع کی جارہی ہے کہ اس کے نتائج آنے والے عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی پوزیشن پر بھی کسی حد تک اثر انداز ہونگے۔
پشاور کا قومی اسمبلی کا حلقہ چار زیادہ تر مضافاتی علاقوں پر مشتمل ہے جو اگر ایک طرف قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے ملا ہوا ہے تو دوسری طرف یہی حلقہ نیم خودمختار قبائلی علاقہ جات آیف آر پشاور اور درہ آدم خیل سے ہوتا ہوا ضلع نوشہرہ کے حدود تک جا پہنچتا ہے۔
تقربناً چار لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں پر مشتمل اس حلقے میں گزشتہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار گلزار خان واضح اکثریت کے ساتھ جیت گئے تھے تاہم گزشتہ ماہ ان کی موت کے بعد یہ نشست خالی ہوگئی تھی۔
گلزار خان نے گزشتہ عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے موجود امیدوار ناصر خان موسی زئی کو 34 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے شکست دی تھی۔ ناصر خان موسی زئی 20 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے تھے جبکہ تیسری پوزیشن جماعت اسلامی کے حصے میں آئی تھی۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حالیہ ضمنی انتخاب تین بڑی جماعتوں تحریک انصاف ، مسلم لیگ نون اور عوامی نیشنل پارٹی کےلیے ایک ٹیسٹ کیس قرار دیا جا رہا ہے۔
اس حلقے پر ابتدا ہی سے نظر رکھنے والے انگریزی اخبار سے وابستہ پشاور کے سنئیر صحافی علی حضرت باچا کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ جو امیدوار جیتے گا ان کو فنڈر ملیں گے بھی یا نہیں لیکن دوسری طرف تمام اہم سیاسی جماعتوں نے اس ضمنی انتخاب کو انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے زیادہ سے زیادہ ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کےلیے بھرپور طریقے سے وسائل کا استعمال کیا جارہا ہے اور اس ضمن میں بجلی، سوئی گیس اور پانی کے مسائل پر توجہ دی جارہی ہے۔
ان کے مطابق اس انتخاب کا یقینی طورپر آنے والے الیکشن پر اثر پڑے گا اور موجودہ تحریک انصاف کی حکومت کےلیے یہ ایک آزمائش بھی ہے کیونکہ اس سے واضح ہوگا کہ پشاور میں ان کی مقبولیت کا گراف کم ہوا ہے یا بدستور موجود ہے اور اس طرح دیگر جماعتوں کا بھی ہے۔
اس حلقے کے کل 26 بلدیات کے وارڈز میں تین جماعتوں پی ٹی آئی، اے این پی اور مسلم لیگ نون کے درمیان سخت مقابلے کی توقع جارہی ہے۔ تاہم کچھ وارڈز میں اے این پی اور نون گروپ کے ایک دوسرے کے مدمقابل ہوسکتے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کو بھی حمایت حاصل ہے۔
اس حلقے میں دو امیدوار ایسے ہیں جو اپنی پارٹیاں چھوڑ کر دوسری سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئے ہیں جن میں تحریک انصاف کے موجودہ امیدوار ارباب عامر جو پہلے عوامی نیشنل پارٹی میں تھے اور دوسرے امیدوار اسد گلزار ہیں جو پی ٹی آئی چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں۔
ارباب عامر کا تعلق مشہور ارباب قبیلے سے ہے۔ وہ عوامی نیشنل پارٹی کے سابق ایم این اے ارباب ظاہر مرحوم کے چھوٹے بھائی ہیں۔ پی پی پی کے اسد گلزار پی ٹی آئی کے مرحوم ایم این اے گلزار خان کے صاحبزادے ہیں۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جب اسلام آباد میں دھرنے کے دوران قومی اسمبلی کی نشستوں سے استعفی دینے کا اعلان کیا تو پی ٹی آئی کے چند ممبران نے منحرف ہوکر اپنے پارٹی سربراہ کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا جن میں مرحوم گلزار خان بھی شامل تھے۔
اس کے علاوہ جو دیگر اہم جماعتوں کے امیدوار اس حلقے سے مدمقابل ہیں ان میں اے این پی کے سابق ڈپٹی سپیکر خوشدل خان اور جماعت اسلامی کے وصال فاروق شامل ہیں۔
دو مذہبی جماعتیں تحریک لبیک پاکستان پارٹی اور ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار بھی اس ضمنی الیکشن میں قمست آزمائی کررہے ہیں ۔
اس حلقے میں تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھر پور انتخابی مہم چلائی گئی ہے اور اہم سیاسی جماعتوں کے سربراہان دوسرے شہروں سے آکر پشاور میں انتخابی جلسے کرچکے ہیں جن میں اسنفدیار ولی خان، عمران خان، بلال بھٹو زرداری اور امیر مقام شامل ہیں۔
خیال رہے کہ دو جماعتوں جمعیت علماء اسلام (ف) اور قومی وطن پارٹی کے امیدوار پہلے ہی مسلم لیگ نون کے امیدوار ناصر خان موسی زئی کے حق میں دست بردار ہوکر ان کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔