جھل مگسی میں درگاہ پر خودکش دھماکہ، 18 افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں ایک درگاہ پر ہونے والے دھماکے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 26 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

یہ دھماکہ بدھ کی شام درگاہ فتح پور پر پانچ بج کر 50 منٹ پر ہوا۔

جھل مگسی کے ہیڈ کوارٹر گنداوہ کے مقامی صحافی رحمت اللہ بلوچ نے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ جس درگاہ پر دھماکہ ہوا وہ سید رکھیل شاہ کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس درگاہ پر سال میں ایک مرتبہ عرس ہوتا ہے جبکہ ہر ماہ دو مرتبہ لوگ عبادات اور مرادیں مانگنے کے لیے جمع ہوتے ہیں ۔

ایک عینی شاہد فقیر بخش نے بی بی سی کو بتایا کہ 15 محرم کی شب کی مناسبت سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد درگاہ فتح پور آئی تھی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ درگاہ کے مین گیٹ سے ایک مشکوک شخص نے داخل ہونے کی کوشش کی۔

عینی شاید کے مطابق اہلکاروں نے مشکوک شخص کو روکنے کی کوشش کی جس پر ایک زور دھماکہ ہوا۔

دوسری جانب بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ خود کش حملہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پولیس کے ایک اہلکار نے حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

سرفراز بگٹی کے مطابق دھماکے میں خود کش حملہ آور کو روکنے والا پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا۔

ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو جھل مگسی کے ہیڈ کوارٹر گنداوہ منتقل کیا گیا۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جھل مگسی ڈاکٹر رخسانہ مگسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں 18 افراد کی لاشیں لائی گئیں جبکہ مجموعی طور پر 26 زخمیوں کو لایا گیا۔

ڈاکٹر رخسانہ مگسی نے بتایا کہ زخمیوں میں سے 21 افراد کو علاج کے لیے کوئٹہ کے علاوہ سندھ کے دو شہروں لاڑکانہ اور شہداد کوٹ منتقل کیا گیا۔

درین اثنا ڈپٹی کمشنر جھل مگسی کے ایک پریس نوٹ کے مطابق دھماکے میں تین بچوں سمیت 18 افراد ہلاک اور26 زخمی ہوئے۔

پریس نوٹ کے مطابق ابھی تک کسی نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

جھل مگسی کوئٹہ سے اندازاً 350 کلو میٹر کے فاصلے پر جنوب مشرق میں واقع ہے جبکہ درگاہ فتح پور جھل مگسی کے ہیڈ کوارٹر گنداوہ سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔

واضح رہے کہ اس درگاہ پر مارچ سنہ 2005 میں عرس کے موقع پر دھماکہ ہوا تھا جس میں 30 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔