کراچی سینٹرل جیل کا انتظام قیدیوں کے ہاتھ میں: تحقیقاتی رپورٹ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے سینٹرل جیل میں قیدیوں بالخصوص شدت پسندوں کے لیے ماحول دوستانہ رہا، یہ ماحول انتہائی سنگین مقدمات میں ملوث دو ملزمان کی فرار ہونے میں مددگار ثابت ہوا۔
یہ انکشاف محکمہ جیل کی محکمہ جاتی تحقیقاتی رپورٹ میں ہوا ہے۔
رواں سال جون میں سینٹرل جیل سے شدت پسند گروپ لشکر جھنگوی کے دو اہم رکن محمد احمد عرف منا اور شیخ محمد ممتاز عرف فرعون فرار ہوگئے تھے۔ ان پر دہشت گردی کے دو درجن کے قریب مقدمات دائر ہیں حکومت نے ان کے خلاف مقدمہ جیل کے اندر چلانے کی ہدایت کی تھی۔
ڈی آئی جی جیل خانہ جات پرویز چانڈیو نے بی بی سی کو بتایا کہ جیل انتظامیہ بہت کمزور ہوچکی تھی طاقتور قیدی حاوی تھی وہ ڈکٹیشن بھی دیتے تھے اور انتظامیہ کسی حد تک ان کے خوف کے باعث دباؤ میں تھی جبکہ پیسوں کے لالچ میں کچھ بدنیتی بھی تھی،جس کی وجہ سے جیل مینوئل بلکل کی غیر فعال تھا۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جیل کے انتظامی امور بھی قیدیوں کے ہاتھ میں تھے۔ ایک سزا یافتہ قیدی ارشد علی جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے پراڈکشن کلارک کے فرائض سرانجام دیتا تھا۔
رپورٹ میں شامل اپنے تحریری بیان میں ارشد علی نے کہا ہے کہ وہ کورٹ کا کام دیکھتا تھا، جب بھی کاز لسٹ ملتی تھی وہ اس کے مطابق تمام وارڈز میں پرچیاں بناکر اور سائن کرکے بھیج دیتا۔ پھر کورٹ جاکر کسٹڈی (متعلقہ قیدی) چیک کرتا یہ اس کا روزانہ کا کام تھا۔
کورٹ پرڈاکشن کے کلارک یاسر سرہیو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ انسائیڈ کورٹ پروڈکشن کے کام کاج سے واقف نہیں تھا جس کی اطلاع اس نے حکام کو دی تھی۔ ان سے قبل ایک پکا قیدی سہیل یہ امور سرانجام دیتا تھا اور بعد میں ارشد قیدی کو اس کام پر رکھ دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارشد علی کو انتہائی حساس جگہ پر تعینات کیا گیا تھا، اس نے جعلسازی کرکے پراڈکشن آرڈر میں محمد احمد عرف منا کا نام شامل کیا۔ کاؤنٹر ٹیررازم محکمے کو اس کے تعلقات کی تحقیقات کرنی چاہیے۔
ڈی آئی جی پرویز چانڈیو نے اس رپورٹ میں بتایا ہے کہ جیل مینوئل کے مطابق جیل شام پانچ بجے بند ہوجانا چاہیے لیکن اس کے برعکس صبح کو کھلتا اور رات کو گیارہ بجے بند ہوتا تھا، سنیگن جرائم میں ملوث ملزمان اور دہشت گردوں کو نماز اور تراویح کے نام پر آزادی دی گئی تھی۔
خیرپور جیل سے سینٹرل جیل آنے والے پولیس کانسٹیبل فاروق احمد شر کا بیان ثبوت کے طور پر دیا گیا ہے۔ اپنے بیان میں کانسٹیبل فاروق نے کہا ہے کہ 13 جون کو شام 5 بجے سے رات 12 بجے تک اس کی ڈیوٹی بیرک 25 اور 26 میں لگائی تھی۔ وہ جیسے ہی پہنچے تو حکام نے آگاہ کیا کہ 11 بجے آنا ابھی جیل کھلا ہے قیدی تراویح پڑھیں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس اہلکار بذات خود قیدیوں کا شمار کرنے کے بجائے قیدیوں کی زبان پر یقین رکھتے تھے جو انہیں 'سب او کے کی رپورٹ دیتے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جب شیخ محمد ممتاز اور محمد احمد مفرور ہوئے تو کسی نے نوٹس نہیں لیا۔'
اس جامع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیل کے افسر رفیق چنا نے مفرور ملزم شیخ محمد ممتاز کو بیرک 25 اور 26 کا سکیورٹی انچارج مقرر کیا تھا، جسے ذمے دار کہا جاتا ہے حالانکہ جیل کے قانون میں ایسی کوئی شق موجود نہیں کہ کسی قیدی کو یہ ذمہ داری دی جائے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
قیدیوں اور پولیس اہلکاروں کے بیانات کی روشنی میں بنائی گئی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیل کے ایک سپاہی محمد عامر کی ڈیوٹی وارڈ نمبر 25 میں سکیورٹی پر لگائی گئی تھی لیکن وہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی ڈیوٹی پر تھا۔ وہ انہیں بازار سے کھانے پینے کی اشیا اور افطاری کا سامنا لاکر دیتا تھا، جس کی یہ قیدی نقد ادائیگی کرتے تھے۔ بجائے اس کی روک تھام کرنے کے وہ خود اس جرم میں شریک ہوا۔
ڈی آئی جی پرویز چانڈیو نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسے تین عملدار ہیں جن میں ایک اے ایس آئی ہے اور دو کاسٹیبلز ہیں ان کا برین واش ہوچکا تھا۔ انھوں نے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سنگین جرائم میں ملوث ملزمان بغیر پولیس اہلکاروں کے جیل میں قائم جوڈیشل کومپلیکس میں بغیر روک ٹوک آجاسکتے تھے۔ متعلقہ حکام نے کبھی اس کا نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ واضح رہے کہ سنگین نوعیت کے مقدمات کی سماعت کے لیے جیل کے اندر جوڈیشل کومپلیکس بنایا گیا ہے۔
ڈی آئی جی پرویز چانڈیو کے مطابق ہر سیل کے باہر بائیو میٹرک سسٹم لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اس کا کمپیوٹرائیزڈ ڈیٹا دستیاب ہو کہ قیدی کس وقت نکلتا ہے اور کس وقت بند ہوتا ہے۔ 'ہماری کوشش ہے کہ اس نظام کو نادرا کے ساتھ لنک کیا جائے تاکہ جیل کے اندر آنے والے جتنے بھی حضرات ہیں اگر وہ اپنی شناخت چھپائیں بھی تو ان کی انگوٹھے کے نشان سے شناخت ہوسکے۔'
کراچی سینٹرل جیل میں چھ ہزار قیدی موجود ہیں، جن میں سے 500 شدت پسندی سمیت سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ غفلت کے الزام میں 12 جیل ملازمین کو گرفتار کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
رپورٹ میں کہا گیا ہے جیل سپرنٹینڈنٹ غلام مرتضیٰ شیخ اور اس کے عملے نے انتہائی غفلت اوربد دیانتی کا مظاہرہ کیا، جس سے انتظامی گرفت کمزور ہوئی اور طاقتور مجرموں نے جیل کا انتظامی کنٹرول حاصل کرلیا۔ اور اسی چیز کا محمد احمد عرف منا اور شیح محمد ممتاز نے فائدہ اٹھایاا اور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
یاد رہے کہ محمد احمد عرف منا اور شیح محمد ممتاز 13 جون کو جعلی پراڈکشن آرڈر کے ذریعے جوڈشیل کومپیکس پہنچے۔ رات بھر وہاں رہے بعد میں ان کے ساتھیوں نے لوہے کی سلاخیں کاٹ کر انھیں راستہ بناکر دیا اور وہ مرکزی دروازے سے فرار ہوگئے۔ اس سے قبل دونوں ملزموں نے داڑھی بھی شیو کرڈالیں۔
انسداد دہشت گردی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہری پور پہنچے جہاں سے مستونگ گئے اور وہاں سے افغانستان فرار ہوگئے ہیں۔








