آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سانحہِ بلدیہ فیکٹری: پانچ سال گزرنے کے بعد بھی لواحقین اب تک انصاف کے منتظر
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
بلدیہ ٹاؤن کے واقعے کو آج پانچ سال ہوگئے ہیں۔ اس عرصے میں تین دفعہ تحقیقات ہوچکی ہیں اور اب تک واقعے میں جھلس کر مرنے والوں کے خاندان ٹرائل شروع ہونے کے منتظر ہیں۔
11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری علی انٹرپرائیز میں لگنے والی آگ کے کیس کا نہ تو ٹرائل شروع ہوا اور نہ ہی اب تک کوئی بیان ریکارڈ کرایا گیا ہے۔
2015 میں سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو حکم جاری کیا کہ کیس کو ایک سال کے اندر مکمل کر دیا جائے۔ اس حکم کو بھی آئے آج دو سال مکمل ہوچکے ہیں اور اب تک کیس جوں کا توں لٹکا ہوا ہے۔
واقعے سے جُڑے ایڈووکیٹ اور لیبر یونین کے رہنماؤں کا ماننا ہے کہ بلدیہ کیس ’سیاسی نقطۂ نظر‘ کا شکار ہوگیا ہے جس سے کیس کو بہت نقصان پہنچا ہے۔‘
بی بی سی اُردو کو انٹرویو دیتے ہوئے ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے کہا کہ کیس ایک خاص سمت میں چل رہا تھا، واقعے کے فوراً بعد آنے والی فیڈرل انویسٹگیشن ایجنسی (ایف آیی اے) کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق آگ حادثاتی تھی جو کہ فیکٹری کی پہلی منزل پر ہونے والے شارٹ سرکٹ سے لگی تھی لیکن پھر 2015 میں کہا گیا کہ آگ حادثاتی طور پر نہیں بلکہ جان بوجھ کر بھتّہ نہ دینے کی صورت میں لگائی گئی تھی۔
’اس سے کیس کا رُخ دوسری طرف موڑ دیا گیاـ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج تک ایک بیان بھی ریکارڈ نھیں کیا گیا ہے جو ایک انوکھی بات ہے۔ ساتھ ہی کیس کو روکنے کی کئی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قومی ٹریڈ یونین کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور کہتے ہیں کہ ’ریاستی اداروں نے ایک خاص نقطۂ نظرشامل کیا جس کی وجہ سے کیس سیاسی ہوا اور آج بھی ملوث افراد دندناتے پھر رہے ہیں۔‘
بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’جن لوگوں کے 2015 میں بننے والی جے آئی ٹی میں نام تھے وہ جب ایک گروہ سے نکل کر دوسرے گروہ میں چلے گئے تو اُن کے خلاف اب کوئی کارروائی نہیں ہورہی۔‘
انھوں نے کہا کہ بنیادی طور پرفیکٹری مالکان اور کپڑا بنانے والی جرمن کمپنی ذمہ دار ہے لیکن لوگوں کو بتایا گیا کہ دہشتگردی کا واقعہ ہے تاکہ فیکٹریوں کی ابتر حالت سے دھیان ہٹایا جائے۔
’اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مالکان کا نام ایف آیی آر میں ہوتے ہوئے بھی وہ فروری 2013 میں ضمانت پر باہر آئے اور 2014 میں ملک سے باہر چلے گئے۔ 2015 میں بننے والی تحقیقاتی کمیشن کو بیان لینے کے لیے مالکان کے پاس دبئی جانا پڑا بجائے اس کے کہ اُن کو ملک واپس لایا جاتاـ‘
2015 کی تحقیقاتی کمیشن کا مقصد بلدیہ فیکٹری کے واقعے کی دوبارہ سے تحقیق کرنے کا تھاـ اس کی ضرورت تب پیش آئی جب ایک اور کیس میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن کا بیان آیا کہ اُس نے یہ سُنا ہے کہ متحدہ کی تنظیمی کمیٹی نے بھتّہ نہ ملنے کی صورت میں فیکٹری میں "کیمیکل پھینکا" جس سے آگ لگ گئی۔
یہی بات فیکٹری مالکان، ارشد بھیلہ اور شاہد بھیلہ، نے جے آیی ٹی کو دیے اپنے بیان میں کہی کہ فروری 2013 میں ضمانت پر رہا ہونے کے بعد اُن کو متحدہ کی تنظیمی کمیٹی کے چیئرمین، حمّاد صدیقی، کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں جس میں وہ 25 کروڑ روپے بھتّے کی ڈیمانڈ کررہے تھےـ
2016 میں جے آئی ٹی کو بنیاد بناتے ہوۓ نیا چالان جمع کرایا گیا جس کے بعد کیس ضلعی عدالت سے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں منتقل ہواـ
اس میں یہ بات سامنے آئی کہ فیکٹری مالکان کو حراساں کیا جا رہا تھا اور یہ کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی بلدیہ واقعے میں مرنے والوں کے لواحقین، جو پہلے کیس میں ضلعی عدالت کی مدد کررہے تھے، اُن کو کہا گیا کہ اب آپ کی مدد کی ضرورت نہیں پیش آئے گی۔
فیصل صدیقی کہتے ہیں کہ ’یہ ایک عجیب بات ہے کیونکہ متاثرین ہمیشہ ایسے کیسز میں مدد کرتے ہیں۔‘
فیکٹری میں آگ لگنے کے بعد زخمیوں کےابتدائی بیان میں یہ بات سامنے آئی کہ فیکٹری میں باہر نکلنے کے راستے بند تھے، ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ فیکٹری کی پہلی منزل پر موجود مچان کے گرنے سے زیادہ اموات پیش آئیں نہ کہ آگ لگنے کی وجہ سے۔
اس کے ساتھ ہی ایف آئی آر درج ہوئی جس میں فیکٹری کے مالکان، مینیجر، اور سیکریٹری لیبر کے نام آئے۔ ایف آیی آر کا متن یہ تھا کہ آگ حادثاتی طور پر لگی ہے لیکن لوگ فیکٹری میں حفاظتی سہولیات نہ ہونے کے باعث مارے گئے۔
بلڈنگ کا ڈھانچہ فیکٹری کے کام کے لیے مناسب نہیں تھا کیونکہ اس میں حادثے کی صورت میں باہر بھاگنے کے راستے نہیں تھےـ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آئی کہ ریسکیو ذرائع اور آگ بجھانے کے ٹینڈرز آگ لگنے کے 45 منٹ بعد پہنچے جس کی وجہ سے زخمی بروقت فیکٹری سے باہر نہ نکلنے کی صورت میں دم گھٹنے سے مر گئے۔
اس کے برعکس، مارچ 2016 میں نئی جے آئی ٹی کے متن کے مطابق آگ اگر حادثاتی ہوتی تو ایک ساتھ پوری عمارت میں پھیلتی۔ آگ ٹکڑوں میں لگی جس میں تہہ خانہ اور گراؤنڈ فلور شامل ہیں اور جہاں کہا گیا کہ شارٹ سرکٹ ہوا ہے، جو کہ کے۔ الیکٹرک کے ابتدائی بیان کے مطابق پہلی منزل پر ہوا تھا، اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
کمیشن کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پہلی منزل پر آگ لگنے کہ کوئی نشان نہیں ہیں، وہاں موجود مشین میں دھاگہ تک صحیح حالت میں ہے۔
تحقیقاتی کمیشن سے جُڑے ایک افسر نے کہا کہ کچھ لوگ پنجاب فورینزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ جھوٹی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں صاف لکھا ہے کہ آگ لگائی گئی ہےـ
اس کے علاوہ کمیشن نے مختلف عینی شاہدین کے بیانات لیے جو اشارہ کررہے ہیں کہ فیکٹری میں آگ ایک 'مجرمانہ سازش' تھی۔ ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ کیس کو جان بوجھ کر ’نقصان پہنچایا جارہا ہےـ‘
فیصل صدیقی نے آخر میں کہا کہ اس کیس کے دو ہی نتیجے نکل سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ دس سال بعد کسی ملزم کو سزا ہوجائے، دوسری صورت میں یہ ہوسکتا ہے کہ کرمنل ٹرائل سے کوئی نتیجہ نہ نکلے۔