’میری ماں کے قتل کے اصل قصوروار آزاد گھوم رہے ہیں‘

بینظیر بھٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ذیشان ظفر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے مقدمۂ قتل کے فیصلے پر سوشل میڈیا پر بھی مختلف ٹرینڈز شروع ہو گئے ہیں جس میں عدالتی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ اور بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری نے بھی ٹویٹ میں عدالت کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ملوث‘ افراد کی رہائی نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے عندیہ دیا کہ پیپلز پارٹی قانونی راستوں پر غور کرے گی۔

بینظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے فیصلے پر #BenazirBhutto ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تک انصاف نہیں ہو سکتا جب تک مشرف اپنے جرائم کا جواب نہیں دیتے ہیں۔

انھوں نے دوسری ٹویٹ میں کہا کہ ’ 10 برس بعد بھی ہم انصاف کے منتظر ہیں۔ اعانت جرم کرنے والوں کو سزا ملی لیکن میری ماں کے قتل کے اصل قصوروار آزاد گھوم رہے ہیں‘۔

آصفہ بھٹو

،تصویر کا ذریعہTwiter

بینظیر کی بیٹی بختاور بھٹو زرادری نے مشرف کی گرفتاری کا ہیش ٹیگ #ArrestMushraf استعمال کرتے ہوئے اپنی چھوٹی بہن کی ٹویٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مشرف نے جائے وقوعہ کو دھونے کا حکم دیا اور دروازے بند کرنے کا حکم دیا جس کی وجہ سے بینظیر بھٹو کی گاڑی اندر ہی پھنس گئی۔

انھوں نے دوبارہ شیم کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے مزید کہا کہ’ پولیس اہلکار تو گرفتار ہو گئے لیکن جو لوگ اس قتل میں ملوث تھے وہ بری ہو گئے۔‘

پیپلز پارٹی کے سابق رہنما فیصل عابدی نے اپنی ٹویٹ میں مشرف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’پرویز مشرف کا بینظیر بھٹو کے قتل میں کوئی کردار نہیں تھا اور محترمہ کے قتل کا کیس لازمی فوجی عدالت میں بھیجا جانا چاہیے تاکہ انصاف ہو سکے۔‘

مسلم لیگ نون کے رہنما اور وزیر خارجہ خواجہ آصف نے عدالتی فیصلے پر ٹویٹ میں کہا کہ'مشرف عدالت سے مفرور و اشتہاری قرار۔۔۔ یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا، یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں۔'

بینظیر بھٹو کی زندگی میں ان کی قریبی ساتھی ناہید خان نے ٹویٹ کی کہ 'زرداری کیمپ کی طرف سے پھیلایا گیا سازشی نظریہ زمین بوس ہو گیا۔ ہم واپس 27 دسمبر 2007 میں پہنچ گئے کیونکہ قاتلوں کا اب بھی سراغ نہیں ملا۔'

خواجہ آصف

،تصویر کا ذریعہTwiter

پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے ٹویٹ کی کہ دس برس بعد بینظیر بھٹو قتل کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہا کیونکہ سازش کرنے والے اور ملزم خاص کر مشرف کو سزا نہیں ملی۔

ٹوئٹر پر دیگر صارفین نے جہاں بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سنائے جانے والے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا وہیں شوکت زرداری نامی ایک شخص نے ٹویٹ میں سوال اٹھایا کہ بینظیر بھٹو کے خاندان میں سے کوئی بھی فیصلہ سننے عدالت نہیں گیا۔

اس کے علاوہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد لگائے جانے والے نعروں کو بھی صارفین ٹویٹ کر رہے ہیں جس میں ایک مقبول نعرہ 'بی بی ہم شرمندہ ہیں، تیرے قاتل زندہ ہیں۔'