آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سب سے اہم گواہ سے سب سے کم تفتیش
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انھیں جھوٹا اور جواری قرار دے دیا۔
اسحاق ڈار پیرکو پاکستان کی سپریم کورٹ کے حکم پر پاناما دستاویزات کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔
اسحاق ڈار کی جانب سے اس بات کی تردید کی گئی کہ انھیں اس سے پہلے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔
خیال رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف درج ہونے والے حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں وعدہ معاف گواہ بنے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس اعترافی بیان میں اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ وہ شریف خاندان کے لیے منی لانڈرنگ کرتے تھے تاہم پیر کو انھوں نے کہا کہ یہ اعترافی بیان انھوں نے اپنے ہاتھ سے نہیں لکھا تھا۔
اسحاق ڈار جب جے آئی ٹی میں پیش ہوئے تو باڈی لینگوئج سے کافی مطمعین دکھائی دے رہے تھے لیکن جونہی وہ جے آئی ٹی کے سوالوں کا جواب دے کر باہر نکلے تو وہ کافی غصے میں تھے۔
صحافیوں نے وزیر خزانہ سے اس بارے میں پوچھا کہ آپ اتنے غصے میں کیوں ہیں تو اسحاق ڈار کا جواب دیا کہ چونکہ وہ دھوپ میں کھڑے ہیں اس لیے میڈیا کو ایسا لگ رہا ہے کہ وہ غصے میں ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
اسحاق ڈار نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ’جھوٹا‘ اور ’جواری‘ قرار دیا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے یہ بھی جتلایا کہ وہ پہلے شوکت خانم ہسپتال کو زکواۃ دیتے تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی الزام لگا دیا کہ اب عمران خان زکواِۃ کے پیسوں سے جوا کھیلتے تھے جس کے بعد انھوں نے شوکت خانم ہسپتال کو زکوۃ دینا بند کردی۔
شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے میں اسحاق ڈار کو سب سے اہم گواہ سمجھا جاتا تھا لیکن جے آئی ٹی کے ارکان نے انھیں زیادہ انتظار بھی نہیں کروایا اور ان سے صرف ایک گھنٹے سے بھی کم پوچھ گچھ کی جبکہ اس کے برعکس وزیر اعظم نواز شریف سے تین گھنٹے سے بھی زیادہ وقت تک پوچھ گچھ کی گئی۔
نواز شریف کے بیٹوں کو بھی گھنٹوں انتظار کروانے کے علاوہ ان سے گھنٹوں پوچھ گچھ بھی کی گئی۔
وزیر اعظم کے صاحبزادے حسن نواز بھی پیر کو تیسری بار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔
حسن نواز نے جے آئی ٹی کے سوالوں کے جوابات دینے کے بعد جے آئی ٹی سے سوال کیا کہ پہلے ان کا قصور بتایا جائے اور پھر سوال کیے جائیں۔
جے آئی ٹی دس جولائی کو اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی اور جوں جوں وقت قریب آتا جا رہا ہے ویسے ویسے وفاقی وزرا کے لہجے میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔