پاناما جے آئی ٹی نے مریم نواز کو بھی طلب کر لیا

پاکستان کی سپریم کورٹ کے حکم پر پاناما دستاویزات کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کو طلب کر لیا ہے۔

مریم نواز سے کہا گیا ہے کہ وہ پانچ جولائی کو پیش ہوں اور یہ پہلا موقع ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مریم نواز کو بلایا ہے

جے آئی ٹی کی جانب سے مریم نواز کو جو سمن بھیجا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ وہ پانچ جولائی کو 11 بجے پیش ہوں اور انھیں اپنے ہمراہ دستاویزات اور ریکارڈ لانے کو کہا گیا ہے۔

اس سمن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مریم نواز مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوتیں تو انھیں قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کے مطابق جے آئی ٹی کی جانب سے مریم نواز کو جو سمن بھیجے گئے ہیں ان میں واضح نہیں کہ انھیں کس حیثیت سے طلب کیا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے فیصلے میں جے آئی ٹی کو وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز سے تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا اور اس فیصلے میں مریم نواز سے تحقیقات کا ذکر نہیں تھا۔

سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو دس جولائی کو اپنی تحقیقات مکمل کر کے حتمی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہوا ہے۔

جے آئی ٹی نے مریم نواز کے علاوہ ان کے بھائیوں حسین نواز اور حسن نواز کو بھی دوبارہ طلب کیا ہے۔

حسن نواز کو تین جولائی کو پیش ہونے کا حکم ملا ہے جبکہ حسین نواز کو چار جولائی کو طلب کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز ماضی میں پانچ مرتبہ جبکہ حسن نواز دو مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔

ان کے علاوہ وزیراعظم نواز شریف ان کے بھائی شہباز شریف اور داماد کیپٹن(ر) صفدر ایک ایک بار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے حال ہی میں لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو ان کے خلاف الزام کی حد تک بھی کچھ نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'احتساب کے نام پر تماشا ہو رہا ہے' اور ان کے ذاتی کاروبار کو کھنگالا جا رہا ہے۔

نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'قوم کسی اور طرف جا رہی ہے جے آئی ٹی کسی اور طرف جا رہی ہے اور جے آئی ٹی کے سامنے ایسے لوگ پیش ہو رہے ہیں جو ہمارے بدترین دشمن ہیں۔'

واضح رہے کہ رواں برس 20 اپریل کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں چھ رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا حکم دیا تھا۔

اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے تین جج صاحبان نے کمیٹی کو 60 دن کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرنے کا وقت دیا تھا۔ اس کے علاوہ ٹیم کے لیے وضع کیے گئے ضوابط کمیٹی کو ہر 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ تین رکنی بینچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔