آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پولیس اہلکار کی ہلاکت کا معاملہ،رکن صوبائی اسمبلی مجید اچکزئی گرفتار
بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین مجید خان اچکزئی کو ٹریفک پولیس کے ایک انسپیکٹر کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ٹریفک پولیس انسپیکٹر عطا اللہ کی ہلاکت کا واقعہ 20جون کو کوئٹہ شہر کے زرغون روڈ پر ایک گاڑی کی ٹکر سے پیش آیا تھا ۔
انسپیکٹر عطااللہ زرغون روڈ پر واقع جی پی او چوک پر ٹریفک کنٹرول کررہے تھے کہ ایک سفید رنگ کی لینڈ کروزر گاڑی نے تیزی کے ساتھ آتے ہوئے ان کو ٹکر ماردی تھی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق عطااللہ کو گاڑی نے پیچھے سے ٹکر ماردی تھی کیونکہ وہ اس وقت دوسری جانب کی ٹریفک کو کنٹرول کررہا تھا۔
جس گاڑی نے ٹریفک پولیس انسپیکٹر کو ٹکر ماری تھی وہ بلوچستان اسمبلی کے رکن اور اسمبلی کے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین مجید خان اچکزئی کی تھی۔
کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ابتدائی طور پر سول لائنز پولیس نے ٹریفک پولیس انسپیکٹر کی ہلاکت کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا تھا تاہم جب اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میڈیا پر نشر ہوئی تو مجید خان اچکزئی کو گرفتار کیا گیا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کی گرفتاری واقعے کے تین روز بعد عمل میں آئی۔
کچہری کے احاطے میں بکتر بند گاڑی سے اترتے ہوئے مجید خان اچکزئی نے میڈیا کے نمائندوں پر برہمی کا اظہار کیا ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے میڈیا کے نمائندوں کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ لوگوں کو پولیس والوں نے یہاں آنے کی دعوت دی۔ انھوں نے کہا کہ ’بے شرم لوگ۔ کیا گذشتہ روز بم د ھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی فوٹیج آپ لوگوں کو نہیں ملی۔ آپ لوگوں کو ٹریفک کے ایک سپاہی کی فوٹیج ملی۔‘
ان کو بکتر بند گاڑی میں ضلع کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
پولیس نے عدالت سے مجید اچکزئی کی پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی جسے عدالت نے منظور کیا۔