آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا آخری سال اور پانچواں بجٹ: ’دفاعی بجٹ میں 79 ارب کا اضافہ‘
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو، ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے جمعے کی شام پارلیمان کے سامنے اپنی حکومت کا پانچواں اور ممکنہ طور پر آخری بجٹ پیش کیا جس میں گذشتہ چار بجٹس کی طرح اس بار بھی زیادہ توجہ مواصلات کے نظام اور توانائی کے شعبے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
اسحٰق ڈار کے پیش کردہ پانچواں بجٹ میں بھی ماضی کے چار بجٹس کی طرح کسانوں کے لیے مراعاتی پیکج اور غریب لوگوں کی مالی مدد کے لیے رقوم مختص کی گئی ہیں۔
پاکستان کے ٹیکس نظام میں بہتری یا مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے اس بار بھی بجٹ میں کوئی نمایاں اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔
ترقیاتی بجٹ
حکومت نے 1001 ارب روپے ترقیاتی کاموں کے لیے مختص کیے ہیں جن کا ایک بڑا حصہ یعنی 401 ارب روپے توانائی کے شعبے کے لیے رکھے گئے ہیں جن میں بڑا حصہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے خرچ کیا جائے گا۔
اس رقم کو خرچ کر کے حکومت کا خیال ہے کہ وہ اگلے سال تک بجلی کی پیداوار میں 10 ہزار میگا واٹ تک کا اضافہ کر سکے گی۔ اس کے علاوہ 320 ارب روپے شاہراہوں اور پلوں کی تعمیر پر خرچ ہوں گے۔ ان میں سی پیک کے تحت بننے والی شاہراہیں بھی شامل ہیں۔
ریلیف اقدامات
حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اس کا اثر اس سے کہیں زیادہ ہوگا کیونکہ حکومت نے 2009 اور 2010 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں دیے جانے والے ایڈہاک ریلیف الاؤنس بنیادی تنخواہ میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس اضافہ شدہ تنخواہ کے دس فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی دس فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ فوجی افسروں اور جوانوں کی خدمات کے پیش نظر ان کی تنخواہوں میں مزید دس فیصد کا عبوری الاؤنس شامل کیا گیا ہے۔
دفاعی بجٹ
حکومت نے دفاعی بجٹ میں قریباً 9 فیصد اضافہ کر کے اسے 920 ارب روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔ پچھلے سال یہ اضافہ 11 فیصد تک تھا۔ حکومت کئی برس سے ملکی دفاعی بجٹ میں افراط زر کے تناسب سے اضافہ کرتی رہی ہے اور اس بار بھی یہ روایت برقرار رکھی گئی ہے۔
زراعت
زرعی شعبے کی ترقی کے لیے وفاقی حکومت نے تین برس قبل جو کسان پیکج دیا تھا حالیہ بجٹ میں اسی پیکج کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ نئے اقدامات میں ساڑھے بارہ ایکڑ زمین کے مالک کسانوں کے لیے 50 ہزار روپے تک کے قرضوں کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وزیر خزانہ نے کسانوں کو یقین دلایا کہ اس سال کے دوران کھاد کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ٹیکس
وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر میں ٹیکس نظام میں اصلاحات یا نئے لوگوں کو ٹیکس نظام میں لانے کے لیے اقدمات کا ذکر نہیں ہے لیکن انھوں نے موبائل فونز پر ٹیکسوں میں کمی اور سگریٹ میں ٹیکسوں میں اضافے کا اعلان کیا۔
اس کے علاوہ انھوں نے بعض اقدامات کا اعلان کیا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت سٹاک مارکیٹ سے مزید آمدن کی توقع کر رہی ہے۔ جو لوگ ٹیکس گوشوارے جمیع نہیں کرواتے ان کے لیے بلواسطہ ٹیکسوں کی شرح میں بھی اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔