بریکنگ,
- بجٹ 2017-18 پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج اپنے اختتام کو پہنچی۔ مزید تفصیلات کے لیے ہیاں کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے جمعے کو قومی اسمبلی میں مالی سال 18-2017 کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کے لیے کلک کریں۔
پاکستان کی حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے پیش کی جانے والی بجٹ تجوایز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’حکمران جماعت کی ناکام پالیسیوں کا سلسلہ قرار دیا ہے۔‘
پاکستان کے دفاعی بجٹ میں آئندہ سال کے لیے 79 ارب روپے اضافے کی تجویز دی گئی ہے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 8.59 فیصد زیادہ ہے۔ 2016-17 کے بجٹ میں دفاعی اخراجات کے لیے مختص رقم میں تقریباً 11 فیصد اضافہ کیا گیا تھا یعنی رواں برس اس شرح میں تقریباً 2.5 فیصد کمی ہوئی ہے۔
موبائل کال پر ودہولڈنگ ٹیکس کمی کے بعد 12 عشاریہ پانچ فیصد اور ایکسائز ڈیوٹی کو کم کر کے 17 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سمارٹ فونز کے لیے کسٹم ڈیوٹی 1000 روپے سے کم کر کے 650 روپے کرنے کا فیصلہ۔
وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی تجویز ہے کہ پاکستان ٹوبیکو یورڈ یا اس کے ٹھیکدار تمباکوسیس کی وصولی کے وقت 5 فیصد کی سرح سے ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کریں۔
وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ سال کم آمدنی والے طبقے کے لیے سالانہ دس لاکھ روپے آمدنی والوں کے لیے تعلیمی اخراجات میں 60000 روپے کی حد تک ٹیکس میں 5 فیصد رعایت دی تھی جسے بڑھا کر 15 لاکھ کر دیا گیا ہے۔
مزدور کی کم از کم اجرت 14000 سے بڑھا کر 15000 روپے کر دی گئی ہے۔
ریٹائرڈ ہونے والے تمام ملازمین کی پینشن میں دس فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
2009 اور 2010 میں تنخواہ میں دیے جانے والے ایڈہاک ریلیف الاؤنس اب افواج پاکستان اور سول ملازمین کی تنخواہ میں شامل کر دیے جائیں گے اور اس کے بعد ان کی بنیادی تنخواہ پر مزید دس فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائےگا۔
کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ٹیکس کی شرح مزید کمی کے بعد 30 فیصد ہوگی۔
سی پیک سے منسلک منصوبوں کے لیے 180 ارب رکھے گئے ہیں۔
ایڈوانس ٹیکس کے لیے آمدنی کی حد پانچ لاکھ سے بڑھا کر دس لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے تاکہ چھوٹے ٹیکس گزاروں کو سہولت مل سکے۔
دفاعی بجٹ کے لیے اس سال 920 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی جارہی ہے جوکہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 79 ارب روپے زیادہ ہے۔