پاکستان کا بجٹ 18-2017: کب کیا ہوا؟

پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے جمعے کو قومی اسمبلی میں مالی سال 18-2017 کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کے لیے کلک کریں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ,

    • بجٹ 2017-18 پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج اپنے اختتام کو پہنچی۔ مزید تفصیلات کے لیے ہیاں کلک کریں۔
  2. بریکنگ, وفاقی بجٹ کے چیدہ چیدہ نکات

    • وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 47 کھرب 52 ارب 90 کروڑ روپے ہے۔
    • صوبائی حصہ نکالنے کے بعد حکومت کی آمدن 29 کھرب 26 ارب روپے متوقع ہے
    • آمدن اور اخراجات کے مجموعی حساب کے بعد یہ 14 کھرب 79 ارب 60 کروڑ خسارے کا بجٹ ہے
    • ترقیاتی اخراجات پر ایک ہزار ایک ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
    • ملک کا دفاعی بجٹ 9 کھرب 20 ارب روپے کا ہو گا جو کہ گذشتہ برس سے 8.59 فیصد زیادہ ہے۔
    • سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پینشن میں دس فیصد اضافہ کیا جائے گا
    • کسانوں کو 20 لاکھ نئے قرضے کم شرحِ سود پر ملیں گے
    بجٹ
  3. ’ناکام معاشی پالیسیوں کا سلسلہ‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستان کی حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے پیش کی جانے والی بجٹ تجوایز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’حکمران جماعت کی ناکام پالیسیوں کا سلسلہ قرار دیا ہے۔‘

  4. بریکنگ, دفاعی بجٹ میں 8.59 فیصد اضافہ

    پاکستان کے دفاعی بجٹ میں آئندہ سال کے لیے 79 ارب روپے اضافے کی تجویز دی گئی ہے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 8.59 فیصد زیادہ ہے۔ 2016-17 کے بجٹ میں دفاعی اخراجات کے لیے مختص رقم میں تقریباً 11 فیصد اضافہ کیا گیا تھا یعنی رواں برس اس شرح میں تقریباً 2.5 فیصد کمی ہوئی ہے۔

  5. بریکنگ, سمارٹ فونز کے لیے کسٹم ڈیوٹی میں کمی

    سمارٹ فونز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    موبائل کال پر ودہولڈنگ ٹیکس کمی کے بعد 12 عشاریہ پانچ فیصد اور ایکسائز ڈیوٹی کو کم کر کے 17 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    سمارٹ فونز کے لیے کسٹم ڈیوٹی 1000 روپے سے کم کر کے 650 روپے کرنے کا فیصلہ۔

  6. سگریٹ پر ٹیکس میں اضافہ

    سگریٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی تجویز ہے کہ پاکستان ٹوبیکو یورڈ یا اس کے ٹھیکدار تمباکوسیس کی وصولی کے وقت 5 فیصد کی سرح سے ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کریں۔

  7. تعلیمی اخراجات پر رعایت

    وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ سال کم آمدنی والے طبقے کے لیے سالانہ دس لاکھ روپے آمدنی والوں کے لیے تعلیمی اخراجات میں 60000 روپے کی حد تک ٹیکس میں 5 فیصد رعایت دی تھی جسے بڑھا کر 15 لاکھ کر دیا گیا ہے۔

  8. مزدور کی کم از کم اجرت

    مزدور

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    مزدور کی کم از کم اجرت 14000 سے بڑھا کر 15000 روپے کر دی گئی ہے۔

  9. بریکنگ, پینشن میں دس فیصد اضافہ

    ریٹائرڈ ہونے والے تمام ملازمین کی پینشن میں دس فیصد اضافے کی تجویز ہے۔

  10. بریکنگ, بنیادی تنخواہ پر مزید دس فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس

    بجٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    2009 اور 2010 میں تنخواہ میں دیے جانے والے ایڈہاک ریلیف الاؤنس اب افواج پاکستان اور سول ملازمین کی تنخواہ میں شامل کر دیے جائیں گے اور اس کے بعد ان کی بنیادی تنخواہ پر مزید دس فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائےگا۔

  11. کارپوریٹ سیکٹر ٹیکس میں کمی

    کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ٹیکس کی شرح مزید کمی کے بعد 30 فیصد ہوگی۔

  12. سی پیک سے منسلک منصوبوں کے لیے 180 ارب روپے

    سی پیک

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سی پیک سے منسلک منصوبوں کے لیے 180 ارب رکھے گئے ہیں۔

  13. کاروں پر ٹیکس کا نظام

    گاڑیاں

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    • ساڑھے آٹھ سو سی سی سے ایک ہزار سی سی گاڑیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 20 ہزار سے کم کر کے 15 ہزار کر دی گئی ہے۔
    • ایک ہزار ایک سو سے 13 سو سی سی گاڑیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 30 ہزار سے کم کر کے 25 ہزار کر دی گئی ہے۔
    • ٹیکس گزاروں کے لیے ساڑھے آٹھ سو سی سی گاڑیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح دس ہزار سے کم کر کے ساڑھے سات ہزار کر دی گئی ہے۔
  14. ایڈوانس ٹیکس کی حدِ آمدنی میں اضافہ

    ایڈوانس ٹیکس کے لیے آمدنی کی حد پانچ لاکھ سے بڑھا کر دس لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے تاکہ چھوٹے ٹیکس گزاروں کو سہولت مل سکے۔

  15. دفاعی بجٹ میں’79 ارب کا اضافہ‘

    فوج

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    دفاعی بجٹ کے لیے اس سال 920 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی جارہی ہے جوکہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 79 ارب روپے زیادہ ہے۔