قومی اسمبلی کے سپیکر نے رکن پارلیمان کو اسمبلی سے باہر پھنکوانے کی دھمکی دے ڈالی

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان کی پارلیمنٹ کی تاریخ میں ایسا بہت کم دیکھنے کو ملا ہے کہ ملک کے ایوان زریں یعنی قومی اسمبلی کا سپیکر حکومتی اتحاد میں شامل رکن پارلیمان پر اتنا ناراض ہو کہ وہ انھیں ایوان سے سیکیورٹی اہلکاروں کی مدد سے زبردستی باہر نکالنے کی دھمکی۔
جمعرات کے روز حزب مخالف کی جماعتوں کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کو معطل کرکے نہ صرف قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے بارے میں بات ہونی تھی بلکہ بلوچستان کے علاقے چمن میں افغانستان کی افواج کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کے واقعہ پر مشیر خارجہ نے پالیسی بیان بھی دینا تھا۔
اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی تو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی طرف سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کا فاٹا ریفارمز پر متفق نہ ہونا حکمرانوں کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت کی طرف سے فاٹا ریفارمز کے بل کو قبائلیوں کے ساتھ ایک سنگین مذاق قرار دیا گیا۔
حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے ایف سی آر کے قانون کے بدلے رواج بل لانے پر تحفظات تھے تاہم حزب مخالف کی جماعتیں بظاہر اس بات پر متفق دکھائی دیتی تھیں کہ اس قانون پر ایوان میں بحث کروائی جا سکتی ہے۔
حکومت اور حزب مخالف کی دو بڑی جماعتوں جن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف شامل تھیں بظاہر وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں اصلاحات لانے پر متفق دکھائی دیتی تھیں لیکن حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا، ان میں جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) اور پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے علاوہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کا ایک دھڑا بھی شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ابھی حکومتی بینچز پر بیٹھے ہوئے ارکان اسمبلی قائد حزب اختلاف کی تنقید سے سنبھل بھی نا پائے تھے کہ حکومتی اتحاد میں شامل اور بظاہر اپوزیشن بینچز پر بیٹھے ہوئے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی طرف سے یہ بیان داغا گیا کہ اگر فاٹا سے متعلق اصلاحات کا نفاذ کیا گیا تو پھر ایک بین الاقوامی تنازع شروع ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا کیونکہ پاکستان کی آزادی سے پہلے اس علاقے میں ایف سی آر کے قانون کا معاہدہ افغان حکومت اور انگریزوں کے درمیان ہے۔
محمود خان اچکزئی کی طرف سے یہ بیان داغنے کی دیر تھی کہ حکومت سے ہٹ کر حزب مخالف کی جماعتوں اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے ایک دھڑے نے نہ صرف احتجاج کرنا شروع کر دیا بلکہ محمود خان اچکزئی کی پاکستان سے وفاداری پر بھی سوالات اُٹھا دیے۔
ایوان میں شدید شور شرابہ شروع ہوگیا جبکہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بارہا ' آرڈر ان دا ہاؤس' کے الفاظ بولتے رہے لیکن کوئی ان کی آواز پر کان دھرنے کو تیار نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فاٹا سے تعلق رکھنے والے حکومت کے حمایتی رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی مائیک کے بغیر ہی اونچی آواز میں بول رہے تھے جس پر قومی اسمبلی کے سپیکر غصے میں سیخ پا ہوگئے اور مذکورہ رکن اسمبلی کو مخالب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ چپ نہ ہوئے تو میں ' اُٹھا کر باہر پھنکوا دوں گا'۔







