آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تحریکِ طالبان پاکستان کا میڈیا سینٹر کیسا تھا؟
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جس میڈیا سینٹر کی سربراہی احسان اللہ احسان کرتے تھے وہ تمام جدید سہولیات سے آراستہ تھا، یہیں پاکستان کی ٹی وی چینلز کو مانیٹر اور مخصوص پروگرامز کو ریکارڈ کیا جاتا تھا۔
کراچی کے صحافی فیض اللہ خان نے افغان صوبے ننگرہار کے علاقے لال پورہ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے اس میڈیا سیل میں چار روز گزارے جہاں ان کی احسان اللہ احسان سے طویل نشستیں ہوئیں۔
فیض اللہ خان اپنی کتاب ’ڈیورنڈ لائن کا قیدی‘ میں لکھتے ہیں کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا میڈیا سینٹر ایک بہت بڑے کمپاؤنڈ پر مشتمل تھا، جو مٹی اور پتھر سے تعمیر کیا گیا تھا، اس کمپاونڈ میں تین کمرے تھے اور وسیع صحن تھا اور دیواروں پر بیڈ شیٹس لگائی گئی تھیں۔
’میڈیا سینٹر میں شمسی توانائی کا طاقتور سسٹم نصب کرکے 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی گئی تھی، جبکہ انٹرنیٹ کی تیزرفتار سروس بھی موجود تھی۔ یہاں کمروں میں پرانے قالین بچھے ہوئے تھے اور پرانے صوفے بھی رکھے گئے تھے۔‘
مصنف کے مطابق ان کی مہمان نوازی کے لیے کمپاؤنڈ میں ایک بکرا بھی ذبح کیا گیا تھا جبکہ چار روز کے دوران کھانا احسان اللہ احسان کے گھر سے پک کر آتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ بتاتے ہیں کہ اس بڑے کمپاؤنڈ کے ایک حصے میں ٹوائلٹ اور غسل خانے کا انتظام تھا جبکہ پانی کے لیے ہینڈ پمپ موجود تھا۔ کمپاؤنڈ کے اندر تحریک طالبان کے رہنماؤں کے گاڑیاں بھی موجود رہتی۔
’ایک کمرے میں ٹی وی کی بڑی سکرین نصب تھی جہاں سیٹلائیٹ ڈش کی مدد سے پاکستانی چینلز کو مانیٹر کیا جاتا تھا۔ کمپاؤنڈ کے دوسرے کمرے میں سوشل میڈیا پروپیگنڈہ کے لیے مختص لیپ ٹاپ اور تحریک طالبان کے لیے بنائی جانے والی ویڈیوز کی ایڈیٹنگ کا کام ہوتا تھا۔ جبکہ تیسرا کمرہ سٹوڈیو کا کام دیتا تھا جہاں ویڈیوز کے ریکارڈنگ کی جاتی تھی۔
کتاب کے مصنف کے مطابق طالبان کی میڈیا ٹیم کے ارکان ٹاک شوز دیکھ کر محظوظ ہوتے اور قہقہے لگاتے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میڈیا سیٹر میں دس سے بارہ افراد رہتے تھے جس میں سے ایک افغان تھا باقی پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے مختلف شہروں سے تعلق رکھتے تھے۔ کمپاؤنڈ کے یہ تینوں کمرے آرام کے لیے بھی استعمال ہوتے لیکن گرمی کی شدت کی وجہ سے زیادہ تر طالبان کھلے آسمان تلے چارپائی بچھا کر سوتے تھے۔‘
میڈیا سینٹر کے کمپاؤنڈ میں تحریک طالبان کے میڈیا ونگ کے اراکان کبھی کبھی نشانہ بازی کی مشق بھی کرتے تھے جبکہ شام میں اسی کمپاونڈ میں والی بال کھیلنے کا بھی اہتمام ہوتا تھا۔