آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’وزیر اعظم اور ان کے بچوں کو بری نہیں کیا گیا‘
- مصنف, عبداللہ فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے آئینی اور قانونی ماہرین کا کہناہے کہ پاناما لیکس کے مقدمے میں جمعرات کو جو فیصلہ آیا ہے اس میں وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کو بری نہیں کیا گیا ہے بلکہ الزامات اپنی جگہ موجود ہیں جن کے درست یا غلط ثابت ہونے کا فیصلہ جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم کی رپورٹ کے بعد ہو گا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے احاطے میں بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج اور ماہر قانون شاہ خاور نے بتایا کہ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ فیصلے میں دو ججوں نے اختلافی نوٹ لکھا ہے کیونکہ اکثریت کا فیصلہ غالب آتا ہے۔
انھوں نے کہا 'سپریم کورٹ آف پاکستان نے بجائے خود کوئی فیصلہ صادر کرنے کے یہ مناسب سمجھا کہ جے آئی ٹی بنائی جائے کیونکہ اِس معاملے میں اب بھی کئی پہلو تشنہ ہیں جن پر تحقیقات اور شہادتیں ریکارڈ کرنے کی ضرورت ہے۔'
شاہ خاور نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ ایک بینچ تشکیل دے گی جو جے آئی ٹی کی تحقیقات کی نگرانی کرے گی اور جے آئی ٹی ہر 15 دن کے بعد سپریم کورٹ کے بینچ کو اپنی کارکردگی کے بارے میں آگاہ کرے گی۔
ہائی کورٹ کے ایک اور سینئیر وکیل شہر یار ریاض نے ایک سوال کے جواب میں کہا 'یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاناما لیکس سے متعلق مقدمے کی باقاعدہ سماعت دراصل جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد شروع ہوگی اور قصور وار کا فیصلہ بھی بعد میں ہوگا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شہر یار ریاض کا کہنا ہے کہ اِس فیصلے کے نتیجے میں جو جے آئی ٹی بنائی جائے گی اس کی قانونی حیثیت اور اس کے آزادانہ طور پر کام کر پانے یا نہ کر پانے پر سوالات ضرور کیے جا سکتے ہیں لیکن فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ کا بینچ جے آئی ٹی کے کام کی نگرانی کرے گا تو اس کی شفافیت کے بارے میں شکوک و شہبات ختم بھی ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ کے نتیجے میں آنے والے فیصلے کو ان افراد کے خلاف مقدمے چلانے کے لیے مثال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جن کے نام پاناما پیپرز میں آئے تھے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اکرام چوہدری نے کہا 'پاناما لیکس کے ذریعے پاکستان میں احتساب کا جو راستہ ہموار ہو رہا تھا فی الحال اس میں کئی رکاوٹیں نظر آ رہی ہیں۔‘