آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
طیبہ کیس: والد کی معافی پر ملزمان کی ضمانت منظور
اسلام آباد میں کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کے کیس میں ملازمہ کے والد کی جانب سے ملزمان کو معاف کرنے کے بعد عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
جمعے کو اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج راجہ آصف کی عدالت میں کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے اس مقدمے کے مدعی اور طیبہ کے والد محمد اعظم کو بھی عدالت میں طلب کیا اور پوچھا کہ وہ اس مقدمے میں کیا کرنا چاہتے ہیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق محمد اعظم کا کہنا تھا کہا اُن کی راجہ خرم علی اور اُن کی اہلیہ ماہین ظفر کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے اور وہ اس مقدمے کو مزید جاری نہیں رکھنا چاہتے۔
ایڈشنل سیشن جج راجہ آصف نے مدعی مقدمہ سے استفسار کیا کہ وہ سوچ سمجھ کر بیان دیں کیونکہ اس سے پہلے بھی اُنھوں نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ اس مقدمے کے ملزمان کو معاف کرنے کا بیان دباؤ میں آ کر دیا تھا۔
عدالت نے طیبہ کے والد کو سوچنے کے لیے دو گھنٹے کا وقت دیا اور وقت گزرنے کے بعد اُنھوں نے عدالت میں آ کر بیان دیا کہ وہ بغیر کسی دباؤ کے ان دونوں ملزمان کو معاف کرتے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ یہ مقدمہ غلط فہمی کی بنیاد پر بنایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طیبہ کے والد کے بیان حلفی کے بعد عدالت نے دونوں ملزمان کی عبوری ضمانت کی تصدیق کر دی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ کی طرف سے کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کے واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج اور اس مقدمے کے ملزم راجہ خرم علی کو اُن کے عہدے سے ہٹا کر آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی بنا دیا تھا۔
طیبہ کے طبی معائنے کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ طیبہ کے جسم پر تشدد کے 20 سے زائد نشانات ہیں۔
پولیس کی طرف سے سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی تفتیش میں ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ کو ذمہ دار قرار دیا تھا جبکہ راجہ خرم علی کو طیبہ کو طبی امداد کے لیے ہسپتال نہ لے کر جانے کا ذمہ قرار دیا تھا۔