کمسن طیبہ پر تشدد،سپریم کورٹ میں سماعت آج سے

پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد میں ایک کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کے واقع کا از خود نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ بچی، اس کے والد اور ملزمہ کو جمعہ یعنی آج عدالت کے سامنے پیش کرے۔

چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد از خود نوٹس کی بنیاد پر پہلی عدالتی کارروائی کے لیے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک دو رکنی بینچ بھی تشکیل دے دیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد پولیس کو گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والی بچی اس کے والد اور بچی پر مبینہ طور پر تشدد کرنے والی ایڈیشنل ڈسٹرک اینڈ سیشن جج راجہ خرم علی خان کی بیوی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دینے سے قبل چیف جسٹس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار سے اس واقع کے بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔

اس رپورٹ میں جو جمعرات کو سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی اس واقع کی پوری تفصیلات کے علاوہ اس پر اب تک ہونے والی تمام عدالتی کارروائی کی دستاویزات بھی شامل تھیں۔ ان دستاویزات میں مقدمہ کی ایف آئی آر اور اس کے بعد کی جانے والی پولیس کارروائی، بچی کے والد کا بیان حلفی جس میں انھوں نے ملزمہ کو معاف کر دیا تھا اور ایڈیشنل سیشن جج کی طرف سے ملزمہ کو دی جانے والی ضمانت کی کاپی بھی شامل ہے۔

واقع کی تفصیلات کے مطابق دس سالہ گھریلو ملازمہ طیبہ کو ایک مقامی ایڈیشنل ڈسٹرک اینڈ سیشن جج کی بیوی نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اس واقع کی خبر مقامی ذائع ابلاغ میں اس بچی کی تصاویر کے ساتھ نشر اور شائع کی گئی جس میں بچی کے چہرے پر تشدد کے نشانات واضح طور پر دیکھے جا سکتے تھے۔

ذرائع ابلاغ میں شور مچنے کے بعد اسلام آباد کے تھانے آئی نائن میں اس واقع کی ایف آئی آر درج کی گئی اور پولیس نے تفتیش شروع کی۔

بعد ازاں لڑکی کے والد نے بچی پر مبینہ طور پر تشدد کرنے والی عورت کو معاف کر دیا اور اس سلسلے میں ایک صلح نامے پر دستخط بھی کر دیئے جس کی بنیاد پر ملزمہ کو ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد نے ضمانت دے دی۔

فریقین میں تصفیے کے بعد طیبہ کو اس کے والد کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس کا حکم ملنے کے ساتھ ہی اسلام آباد پولیس کے ذرائع کے مطابق ایک پولیس پارٹی کو طیبہ اور اس کے والد کو لینے کے لیے فیصل آباد روانہ کر دیا تھا۔ لیکن آخری اطلاعات آنے تک پولیس ان کو تلاش نہیں کر پائی ہے۔