فوجی عدالتوں پر کل جماعتی کانفرنس بلانے کا مطالبہ

پاکستان کی پارلیمان میں موجود حزب مخالف کی کچھ جماعتوں نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے پر کل جماعتی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس میں ملک کی سویلین اور عسکری قیادت دونوں کو شرکت کرنی چاہیے۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد آئینی ترمیم کے ذریعے پاکستان میں فوجی عدالتوں کو شدت پسندی کے مقدمات جلد نمٹانے کے لیے دو سال کا وقت دیا گیا تھا جس کی مدت گذشتہ ماہ ختم ہو چکی ہے۔

فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کے معاملے پر پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جاعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس منگل کو قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔

بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کے مطابق اس اجلاس میں فوج کے خفیہ اداروں ملٹری انیلیجنس، انٹر سروسز انٹیلیجنس اور فوج کی لیگل برانچ کے نمائندوں نے پارلیمانی رہنماؤں کو فوجی عدالتوں میں بھیجے گئے مقدمات اور ان پر ہونے والے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔

حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی رہنماؤں نے وزیر داخلہ اور وزارت داخلہ کے حکام کی طرف سے اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ وزیر داخلہ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

اجلاس میں حکومت کی دو حلیف جماعتوں کے رہنماؤں مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کے شامل نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ شدت پسندی کے خلاف جاری ضرب عضب اور فوجی عدالتوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ شدت پسندی کے واقعات میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے لیکن اس کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے۔

شاہ محمود قریشی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب حکومت کے علم میں تھا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت ختم ہو رہی ہے تو اس بارے میں پہلے سے عملی اقدامات کیوں نہیں اُٹھائے گئے۔

انھوں نے دعوٰی کیا کہ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسحاق اڈار اور وفاقی وزیر قانون شاہد حامد نے نیشنل ایکشن پلان میں اصلاحات نہ لانے سے متعلق اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی کیاہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما کا کہنا تھا کہ پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں ان کی جماعت کے علاوہ جماعتِ اسلامی، مسلم لیگ ق اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر کل جماعتی کانفرنس بلانے کے حامی تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اجلاس میں شامل اعجاز جاکھرانی نے بتایا کہ ان کی جماعت قیادت سے مشورے کے بعد اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمان میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت ہے اور وہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حق میں نہیں جس کا برملا اظہار اس کی قیادت پہلے بھی کر چکی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں اگر فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کا فیصلہ ہوتا ہے تو ان عدالتوں میں بھیجے گئے مقدمات اور وہاں ہونے والی عدالتی کارروائی کا جائزہ لینے کے لیے بھی ایک کمیٹی بنانے کی تجویز دی گئی ہے جس پر سب نے اتفاق کیا ہے۔

اس سلسلے میں پارلیمانی رہنماؤں کا آئندہ اجلاس اب 16 فروری کو ہوگا جس میں وفاقی وزیر قانون شاہد حامد فوجی عدالتوں سے متعلق ایک جامع منصوبے کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔