اوبر، کریم اور اے ون مشکل میں

    • مصنف, حنا سعید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان کے دو بڑے صوبوں پنجاب اور سندھ میں موبائل ایپ کے ذریعے ٹیکسی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں اوبر، کریم اور اے ون کے خلاف کارروائی اور ان پر پابندی کا معاملہ منگل کو دن بھر گرم رہا۔

اوبر

منگل کی شب پنجاب کے وزیراعلیٰ کی جانب سے معاملے کا نوٹس لیے جانے کے بعد پنجاب میں تو ان ٹیکسی سروسز کو رجسٹریشن کے لیے 15 دن کی مہلت مل گئی ہے البتہ سندھ میں اس حوالے سـے صورتحال اب تک واضح نہیں ہوئی ہے۔

منگل کی شب پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیئرمین عمر سیف نے ان سروسز کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ان کمپنیوں کو نئے ٹیکس نظام کے تحت رجسٹر کروانا لازمی ہوگا تاکہ ان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جا سکے۔

پیر کی شب اور منگل کو جاری ہونے والے حکومتی نوٹیفیکیشنز میں ان تینوں کمپنیوں پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ یہ ٹیکسی سروسز غیر قانونی طور پر نجی کاریں استعمال کر رہی ہیں اور ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

پنجاب حکومت کے نوٹیفیکیشن کا تفصیلی جائزہ لیں تو اس میں پانچ اہم نکات ہیں۔ ایک الزام یہ ہے کہ ان سروسز میں پرائیویٹ کاروں کو بطور ٹیکسی چلایا جا رہا ہے جس سے حکومت کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہےـ

اس کے علاوہ انھیں عوام کے لیے غیر محفوظ بھی قرار دیا گیا۔

پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کی ابتر صورتحال کے باعث ان حکومتی اقدامات پر شدید ردعمل دیکھنے کو ملا۔

لاہور کی ایک زرعی کمپنی میں کام کرنے والے شہری مبین کا کہنا تھا کہ 'اوبر اور کریم کے آنے سے عام آدمی کو فائدہ ہوا تو حکومت نے سوچا بہتی گنگا میں ہم بھی ہاتھ دھو لیں۔ اب مجھ جیسے تمام افراد جو ان سروسز کا روزانہ استعمال کرتے تھے، وہ اپنی گاڑیاں استعمال کرنے پر مجبور ہو جائیں گے جس سے سڑکوں پر ٹریفک مزید بڑھ جائے گا۔'

بے ہنگم ٹریفک اور غیر محفوظ سواریوں سے پریشان، پاکستانی خواتین کے لیے یہ ٹیکسی سروس کسی نعمت سے کم نہیں ـ ایپ کے ذریعے ڈرائیور کی معلومات اور ٹریکنگ فیچر کے باعث خواتین صارف کی درمیان اوبر اور کریم کافی مقبول ہیں۔

کراچی کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرنے والی خاتون صارف، ربیعہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا:

نوٹیفیکیشن

'ہمیں ٹیکسی اور رکشے کے لیے سڑک پر خوار ہونا پڑتا تھا، جب یہ پرائیویٹ ٹیکسیاں آئیں آرام سے گھر پر، آفس سے آن لائن آرڈر کرتے ہیں اور ٹریکنگ کے باعث گھر والے بھی مطمئن رہتے ہیں تو حکومت انہیں غیر محفوظ کیسے کہہ سکتی ہے؟ غیر محفوظ تو یہ عام رکشہ اور بسیں ہیں، حکومت کو ان پر تنقید کرنے کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔'

صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ کریم، اوبر اور اے ون کمپنیاں روٹ پرمٹ اور گاڑیوں کی فٹنس سرٹیفیکیٹ کے بغیر چل رہی ہیں۔اس حوالے سے جب بی بی سی نے ایسی ہی ایک ٹیکسی سروس کے ڈرائیور خالد سے بات کی تو انھوں نے بتایا:

'ٹیکسی سروس کا کونسا روٹ پلان ہوتا ہے؟ کس شہر میں یہ نظام ہے ـ ہم تو سواری کو گھر یا آفس سے پک کرتے ہیں اور مارکیٹ، گھر یا شادی ہال، جہاں جانا ہو چھوڑ آتے ہیں ، اس میں روٹ کا کیا عمل دخل؟ اگر حکومت نے پرائیویٹ ٹیکسیوں پر ٹیکس لگانا ہے تو لگا دیں، بہانے نہ بنائیں ـ پالیسیاں بنانی ہیں تو عوام کا فائدہ دیکھیں نہ کہ اپنے مفاد۔موجودہ صورتحال میں تو یہ ترکی کی پیلی ٹیکسیوں کا کاروبار بچانے کے لیے کیا جا رہا ہے، جو کہ اتنی مہنگی ہیں کہ عام عوام کی دسترس سے باہر ہیں۔'

اس تنازع پر کریم پاکستان کے مینیجنگ ڈائریکٹر جنید اقبال کا کہنا ہے کہ'ہم حکومت سے بات چیت کر رہے ہیں اور ہم پر لاگو ہونے والے قوانین کی وضاحت چاہتے ہیں۔'

دوسری جانب اوبر ٹیکسی سروس نے جاری کردہ بیان میں کہا: 'ہم اپنے ڈرائیورز کے تحفظات کا خیال رکھتے ہوئے پاکستان میں موجودہ ٹرانسپورٹ سسٹم کو بہتربنانے کے لیے پالیسی میکرز کے ساتھ کام کریں گے۔'

لاہور میں اوبر کے ایک ڈرائیور ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ 'اوبر کی طرف سے ہمیں کہا گیا ہے کہ آپ گاڑی چلاتے رہیں، اگر کوئی روک کر آپ کا چالان کرتا ہے تو گھبرائیں مت، چالان ہمارے پاس لے آئیں، ہم آپ کو اس رقم کی ادائیگی کر دیں گے۔ لیکن حکومت کا یہ نوٹس میری سمجھ سے باہر ہےـ تقریباً ایک سال قبل پی آئی ڈی کے چئیرمین عمرسیف نے خود اوبر اور پھر کریم کی لانچ کی تھی تو پھر حکومت نے تمام فارمیلیٹیز اس وقت پوری کیوں نہیں کیں؟'

خیال رہے 2010 کہ آغاز کے بعد سے اوبر کو دنیا کے کئی ممالک میں مشکلات اور تنازعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دوسری جانب تنازعوں کے معاملے میں اوبر کے مقابلے میں کریم سروس قدرے خوش قسمت رہی۔ 2012 میں لانچ کے بعد کریم اب مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور شمالی افریقہ کے 11 ممالک اور 51 شہروں میں سروس فراہم کر رہی ہے۔