حدیبیہ پیپرز ملز مقدمہ: ’سپریم کورٹ میں اپیل دائر کیوں نہیں کی گئی‘

پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے قومی احتساب بیورو (نیب) سے اس اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات مانگ لی ہیں جس میں حدیبہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پیر کو عدالت نے اس مقدمے میں اٹارنی جنرل سے جواب طلب کیا ہے کہ نیب،سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور سٹیٹ بینک نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کیوں دائر نہیں کی۔

اس مقدمے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے پیش گئی معافی کی درخواست کو نیب نے قبول کیا تھا جس کے بعد اُن کا اعترافی بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔

نیب کے پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 20 اپریل کو اسحاق ڈار نے درخواست دی تھی جس کے اگلے روز ہی اُن کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر خزانہ کے وکیل شاہد حامد نے کہا کہ اُن سے یہ بیان یہ کہہ کر لیا گیا کہ اگر بیان نہ دیا تو اٹک قلعے سے نہیں جانے دیا جائے گا۔

پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حدیبیہ پیپر مل کے مقدمے میں اعترافی بیان اسحاق ڈار کے خلاف نہیں بلکہ نواز شریف کے خلاف استعمال ہو سکتا تھا۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ اُن کے مؤکل کو نااہل قرار دینے سے متعلق درخواستیں پہلے ہی ہائی کورٹ سے مسترد کر چکی ہے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا اس مجسٹریٹ کو نیب کی عدالت میں پیش کیا گیا جنھوں نے اسحاق ڈار کا بیان ریکارڈ کیا تھا جس پر شاہد حامد کا کہنا تھا کہ اس وقت نیب قانون کے مطابق مجسٹریٹ کا عدالت میں پیش ہونا ضروری نہیں تھا۔

پانامی لیکس کے معاملے میں درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سوال اُٹھایا ہے کہ شریف فیملی کی طرف سے دبئی میں گلف سٹیل ملز کے قیام کے لیے قرضہ تو بینک کے ذریعے لیا گیا جبکہ اس کی ادائیگی کے لیے بینک کی خدمات حاصل کیوں نہیں کی گئیں۔

ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کے وکیل سے استفسار کیا کہ اس مل کے قیام کے لیے کوئی رقم پاکستان سے بھیجی گئی جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ اپنے مؤکل سے متعلق ہی جواب دے سکتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر بیرون ممالک رقم بھیجی بھی گئی ہے اس پر فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت ہی کارروائی ہو سکتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ دوبئی میں گلف سٹیل مل 45 سال سے زائد عرصے کا یہ معاملہ ہے اور اگر اس بارے میں درخواست گزاروں کے پاس کوئی شواہد ہیں تو وہ عدالت میں پیش کریں۔ اُنھوں نے کہا کہ ابھی تک درخواست گزاروں نے ان درخواستوں میں ثبوت فراہم نہیں کیے محض اپنا موقف پیش کیا ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے دائرہ سماعت کے بارے میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 184 کے سب سیکشن 3 کے تحت سپریم کورٹ کا دائرہ سماعت بہت وسیع ہے لیکن اس کے تحت سپریم کورٹ متعلقہ فورم کے اختیارات نہیں لے سکتی۔

سماعت کے دوران گلف سٹیل مل میں وزیر اعظم کے والد میاں شریف کے بزنس پارٹرمیاں شفیع کے بیٹے طارق شفیع کا بیان بھی عدالت میں پیش کیا گیا جس میں کہا گیا کہ اُن کے والد نے قطری شہزادے کو 12 ملین درہم کی رقم نقدی کی صورت میں ادا کی تھی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ گلف سٹیل مل کے قیام کے لیے قرضہ کن بنیادوں پر حاصل کیا گیا جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میاں شریف کے ساتھ لوگ تعاون بھی کرتے تھے اور اُن کے بیرون ممالک کے ساتھ تعلقات بھی تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ سب کچھ اس وقت تک ٹھیک تھا جب پاناما کا معاملہ سامنے نہیں آیا تھا۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز افضل نے حسین نواز کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ لندن میں خریدے گئے فلیٹس آپ (حسین نواز) کی ملکیت ہیں نواز شریف کی نہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے حسین نواز کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ کہا گیا کہ رقم دبئی سے جدہ اور پھر لندن گئی جبکہ اس میں آپ کے مؤکل کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ رقم قطر سے گئی تھی۔

سماعت کے دوران وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی حان کی طرف سے میاں شریف کی وراثت کے بارے میں تفصیلات عدالت میں جمع کروادی گئیں۔ وزیراعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ تفصیلات صرف جج صاحبان کے دیکھنے کے لیے ہیں۔