آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ضرورت پڑنے پر وزیر اعظم کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے‘
پاناما لیکس کی دستاویزات سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وزیر اعظم کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ان درخواستوں میں فریقین کو سن کر عدالت کو یہ طے کرنا ہے کہ اس نے کیا کرنا ہے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت شروع کی تو جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اُن کے سامنے تمام شواہد رکھ دیے گئے ہیں اور اب عدالت ان کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ دے۔ اس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ انہیں شواہد نہیں کہہ سکتے بلکہ دستاویز کہیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔
بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان دستاویز کا قانونی شہادتوں کے تحت جائزہ لیا جائے گا۔
جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر عدالت کو اس بارے میں مزید شواہد یا کسی سوال کی وضاحت چاہیے تو عدالت وزیر اعظم کو طلب کرسکتی ہے۔ اس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر وزیر اعظم کو عدالت میں طلب کیا جاسکتا ہے ورنہ نہیں۔
جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ حدیبیہ پیپر ملز بنام التوفیق کیس میں لندن میں موجود فلیٹس کو گروی رکھا گیا تھا جس کے بعد وزیر اعظم نے اس کا قرضہ ادا کیا تھا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا جب برطانیہ میں یہ مقدمہ چل رہا تھا تو اس وقت نواز شریف پاکستان میں جیل میں تھے اور اگر درخواست گزار کے پاس اس بارے میں کوئی شواہد موجود ہیں تو وہ عدالت میں پیش کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنھوں نے کہا کہ برطانوی عدالت یا پاکستان کی سپریم کورٹ نے لندن فلیٹس کے بارے میں کوئی فائنڈنگز نہیں دیں۔
توفیق آصف کا کہنا تھا کہ اس بات کا شک ہے کہ دبئی میں لگائی گئی مل کو بیچ کر لندن میں فلیٹس خریدے گئے۔ اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ اُنھیں معلوم ہے کہ شک کا فائدہ کس کو جاتا ہے۔
جماعت اسلامی کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اسی جماعت کے ایک اور وکیل شیخ احسن الدین نے دلائل دیے جس میں ان کا موقف تھا کہ قطری خط کو خود سے تخلیق کیا گیا، اس پر بینچ کے سربراہ نے جماعت اسلامی کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا وہ عدالت کو بتا سکتے ہیں کہ یہ خط کس نے تحریر کیا ہے جس پر جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ تو اُنھیں معلوم نہیں ہے کہ خط کس نے لکھا لیکن اس کا کُھرا نواز شریف کی طرف ہی نکلتا ہے۔
جماعت اسلامی کے وکیلوں کے دلائل مکمل ہونے کے بعد وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل شاہد حامد نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کی موکلہ شادی کے بعد کبھی بھی اپنے والد کے زیر کفالت نہیں رہی ہیں۔
ان درخواستوں کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی گئی ہے۔