اے ٹی آر کا صدقہ

- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پی آئی اے ان دنوں ریڈار پر ہے اور اس کی ہر حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے اور اس کے طیارے میں کوئی بال برابر بھی مسئلہ نظر آئے تو میڈیا اس پر پورٹ کرتا ہے۔
اسی طرح گذشتہ دو دن سے پی آئی اے کے ایک طیارے کے سامنے بکرے کے صدقہ دینے کی تصویر خوب شیئر کی جارہی ہے۔
پی آئی اے کا یہ طیارہ اے ٹی آر کے بیڑے میں سے پہلا ہے جسے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تمام جانچ پڑتال کے بعد پرواز کے لیے کلیئر کیا تھا جس کے بعد مقامی انجینیئرز نے کالے بکرے کا صدقہ دیا۔
سوشل میڈیا پر جس انداز میں اس سارے معاملے کو اکثریت نے تضحیک کا نشانہ بنایا وہ تو یہاں بیان نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس میں عقائد اور صدقے کے حوالے سے جو باتیں کی گئیں وہ یہاں نہیں لکھی جا سکتیں مگر اس پر انجنیئرنگ کے حوالے سے دلچسپ تبصرے بھی سامنے آئے۔
ندیم فاروق پراچہ نے لکھا 'کہ اب پرواز پر مٹن ملے گا' جبکہ کرسٹین رور نے لکھا 'طیارے کے حادثے کے بعد پی آئی اے کا سٹاف کچھ بھی چانس پر نہیں کرنا چاہتا طیارے کے کلیئر ہونے کے بعد پروازوں سے پہلے کالے بکرے کا صدقہ دیا گیا ہے۔'

جب پی آئی اے کے ترجمان سے اس حوالے سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ پی آئی اے انتظامیہ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بکرا صدقہ کرنے کا عمل مقامی عملے نے اپنی ذاتی حیثیت میں کیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ صدقہ پرواز سے قبل کیا گیا تھا تو دانیال گیلانی نے بتایا کہ 'بکرے کا صدقہ عملے نے پہلے اے ٹی آر کےشیک ڈاؤن ٹیسٹ سے کلیئر ہونے کے بعد شکرانے کے طور پر دیا، جس کے کئی گھنٹے بعد طیارے نے پہلی پرواز کی۔ اور یہ جو تاثر دیا جا رہا ہے کہ طیارے میں مسافروں کے سوار ہونے سے قبل یہ سب کچھ کیا گیا یہ بالکل غلط ہے۔ یہ صدقہ طیارے کے ہینگر کے قریب دیا گیا جو کہ ان جالیوں سے واضح ہے جو نظر آ رہی ہیں رن وے یا ٹارمیک پر ایسی جالیاں نہیں ہوتیں۔'
تاہم مذہبی رسومات کا معاملہ نیا نہیں دنیا بھر میں نئے طیاروں اور سروسز سے پہلے دعائیہ تقریبات ہوتی ہیں جن میں مذہبی شخصیات آ کر طیاروں کو آشیرباد دیتے ہیں یا دعا کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAir India
پی آئی اے ہی کے ایک بوئنگ سیون تھری سیون طیارے کے بارے میں قصہ مشہور ہے کہ اس کو مختلف مسائل کا سامنا رہتا تھا جس کے مختلف حل سوچے گئے تبدیلیاں بھی کی گئیں اور اس سب کے ساتھ ساتھ ایک عدد بکرا طیارے کے چرنوں میں قربان کیا گیا۔ بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ اس طیارے کی رجسٹریشن کو بھی تبدیل کیا گیا اور AP-BCE سے بدل کر AP-BFT کر دیا گیا۔
کہتے ہیں کہ اس بعد طیارے کے مسائل کافی حد تک کم ہوئے گئے اور بلآخر یہ طیارے خیروعافیت سے ریٹائر ہو گیا۔
مگر سوال یہ ہے کہ صدقے تو پہلے بھی ہوتے تھے ایسا شاید پہلی بار ہوا کہ اے ٹی آر کے صدقے کی تصویر بنا کر شیئر کی گئی اور پھر یہ میڈیا کے ہاتھ آگئی جس نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔
پی آئی اے کے ذرائع نے بتایا ہے کہ کمپنی اندرونی طور پر تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا بکرا اور ذبح کرنے کے لیے چھری حساس مقام پر لیجانے کے لیے ضابطے کی کارروائی کی گئی یا نہیں۔'








