آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عزت یا غیرت ہے کیا؟
- مصنف, بے نظیر جتوئی
- عہدہ, وکیل برائے حقوقِ انسانی
عزت کیا ہے؟ 'اگر وہ مجھے سولی پر بھی لٹکا دیں۔۔۔ تو مجھے میری عزت سے پیاری کوئی چیز نہیں۔' یہ الفاظ افغان نژاد محمد شفیعہ کے ہیں جو انھوں نے 2012 میں اپنی تین بیٹیوں اور پہلی بیوی کے قتل کے مقدمے کے دوران ادا کیے۔ انھوں نے کہا: 'وہ دھوکے باز تھیں۔
تو پھر عزت یا غیرت کیا چیز ہے جس کی خاطر آپ اپنے بچوں کی زندگیاں لینے پر تل جاتے ہیں؟ غیرت بےحد موضوعی تصور ہے جو پدرسری نظام سے وابستہ ہے اور اس کا مقصد عورت پر مکمل اختیار حاصل کرنا ہوتا ہے۔
غیرت ہی وہ چیز ہے جو انسان کو قاتل بنا دیتی ہے۔ اس کی تعریف کو کچھ ایسے توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے جیسے احترام، اہلیت اور سماجی رتبہ کسی معاشرے کا مجموعی لیبل ہیں جس کی ضامن عورتیں اور نگران مرد ہوتے ہیں۔
غیرت لوگوں پر پابندیاں عائد کرتی ہے اور اس سے انحراف کی سزا موت ہو سکتی ہے۔ اس انحراف کی وجوہات تقریباً ہمیشہ اس عورت کے گرد گھومتی ہیں جو آزادی چاہتی ہے۔ اسے خودکار طریقے سے خاندان کے مردوں سے ٹکر سمجھا جاتا ہے۔
کسی بھی متصورہ غیر آبرومندانہ رویے کا انجام موت ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی سادہ سی بات ہو سکتی ہے مثلاً عورت کا اپنی مرضی سے خاوند کا انتخاب کرنا۔ اسی غیرت کے نام پر ہریانہ کے ایک جوڑے کو قتل کر کے سٹیل کے نئے بکسوں میں بند دیا۔ عورت نے صرف سرخ چوڑیاں پہن رکھی تھیں، جو اس بات کی علامت تھیں کہ وہ نئی نویلی دلہن ہے۔
اگر کوئی عورت طلاق کا مطالبہ کرے یا دوسری شادی کرنا چاہے تو اسے بھی غیرآبرومندانہ رویہ تصور کیا جاتا ہے۔
خاندان کی بڑی بوڑھیاں غیرت کے اسی تصور میں اس قدر ڈوبی ہوتی ہیں کہ وہ نوجوان خواتین کو خاندان کی ناموس کا تحفظ کروانے کے لیے بیک وقت فعال اور غیر فعال کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی ناموس نے سرجیت اتھوال کی جان لے لی، جنھیں ان کی روایتی سکھ گھرانے سے تعلق رکھنے والی ساس نے طلاق لینے کی کوشش کی پاداش میں قتل کروا دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غیرت کے نام پر صرف عورت کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد نہیں کی جاتیں، بلکہ عورت کی جنسیت پر بھی پہرے کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ غیرت تقاضا کرتی ہے کہ عورت پر مکمل غلبہ رہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ غیرت اور عزت جیسے بظاہر مثبت الفاظ کسی شوہر یا کسی بھائی کو قاتل بنا دیتے ہیں؟ یہ اتنا منفرد اور روایت میں ڈوبا ہوا تصور ہے کہ مختلف ملکوں کی حکومتوں اور عدالتوں نے ایک بحث شروع کر دی ہے کہ اس کے تحت کی جانے والے قتل کو ایک الگ شعبے میں رکھا جائے۔
2004 میں پاکستان نے غیرت کے نام پر کیے جانے والے جرائم کو حکومت کے خلاف جرم قرار دیا۔ بدقسمتی سے ایسے قتل معافی اور خون بہا سے منسلک ہوتے ہیں، جس کے تحت اپنے ہی خاندان کی کسی قریبی عزیز کا قاتل عدالت سے بری ہو جاتا ہے، کیونکہ مقتولہ کے رشتے دار، جو قاتل کے بھی قریبی ہوتے ہیں، اسے معاف کر دیتے ہیں۔ اس طرح قاتل خاندان کی عزت بحال کر دیتا ہے اور خاندان اسے معاف کر دیتا ہے۔
2016 میں قانون میں مزید ترامیم کی گئیں۔ بدقسمتی سے ان ترامیم میں معافی اور تلافی کی شقیں واپس نہیں لی گئیں۔ صرف اتنا کیا گیا کہ جج کی صوابدید بڑھا دی گئی۔
انڈین سپریم کورٹ نے 2011 میں فیصلہ دیا کہ غیرت کے نام پر کیے جانے والے قتل کو 'انتہائی شاذ و نادر ہونے والا جرم تصور کیا جائے گا اور مجرم کو پھانسی پر چڑھا دیا جائے گا۔'
حکومتوں اور قانون سازوں کی توجہ کے باوجود یہ جرم بعض حلقوں اور برادریوں میں قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کو اب بھی عدالت میں بطور دفاع اور معاشرے میں بطور جواز پیش کیا جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے خاندان کی کسی عورت کو غیرت کے نام پر قتل کریں تو معاشرے میں آپ کی ناک نہیں کٹتی۔ اس کی بجائے آپ کے وقار میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ غیرت مندانہ قتل بہت سوں کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ کسی کھوئی ہوئی چیز کو بازیاب کروا کر اپنی عزت بحال رکھیں۔
'غیرت' کا یہ الٹا تصور تمام برصغیر میں پایا جاتا ہے، اور اس کا تعلق کسی ایک مذہب، ثقافت یا معاشی طبقے سے نہیں ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں پانچ ہزار کے قریب عورتیں غیرت کے نام پر قتل ہوتی ہیں، جن کی بڑی تعداد پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھتی ہے۔
یہ چلن روایت میں اس قدر ڈوبا ہوا ہے کہ اور اس کے پیچھے اس قدر کٹر تصور کارفرما ہے کہ روایت کا تحفظ عورت کے کنٹرول ہی سے کیا جا سکتا ہے کہ عورت پر ہر طرح کی پابندیاں جائز سمجھی جاتی ہیں۔
لڑکی کے سکول جانے کے حق، اپنی پسند کی شادی کرنے کے حق، اس کی تولیدی صحت کا حق، اس کے بچوں کے بارے میں فیصلے کرنے کا حق۔
یہ سوال کہ آیا وہ پڑھی لکھی ہے یا ان پڑھ، صحت مند ہے یا بیمار، خوش ہے یا ناخوش اس کے بنیادی حقوق کے دائرے سے باہر سمجھے جاتے ہیں۔ عورتوں کے اختیار پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔ اور اس اختیار کا استعمال ہلاکت خیز ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیرت کا خودساختہ رواج خاندان کے رتبے اور مرتبے کا تعین کرتا ہے۔ یہ انتہا درجے کی ستم ظریفی ہے کہ معاشرے میں خاندان کی وقعت کا انحصار ایک ایسے فرد پر ہے جس کے پاس کوئی اختیار نہیں، جس سے خاندان میں ہونے والے کسی فیصلے، حتیٰ کہ خود اس کے بارے میں کیے جانے والے کسی فیصلے پر رائے نہیں لی جاتی۔
ہمیں لوک داستانوں میں غیرت مند، بہادر مردوں کی داستانیں سنائی جاتی ہیں جو غیرت سے پُر کارنامے سرانجام دیتے ہیں۔ اس طرح غیرت کا تصور ہماری اچھائی کی روایت میں رچا بسا ہے لیکن اسے ہمیشہ مردانہ صفت سمجھا جاتا ہے۔ مرد غیرت مند کام کرتے ہیں، جب کہ عورتیں ان اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے مرد اور خاندان کی غیرت کا پاس رکھتی ہیں۔
اس لیے غیرت کی تفہیم ہمیشہ مکمل طور پر مردانہ اور اخلاقیات سے منسلک رہتی ہے۔ اس طرح یہ تصور انتہائی موضوعی اور من مانا بن جاتا ہے۔ اس کا بدلنا آسان نہیں ہے۔ جب تک زیادہ تعداد میں لڑکیاں سکولوں سے باہر رہیں گی، ہمیں اسی قسم کی غیرت کا تصور دیکھنے کو ملے گا۔ جب تک عورتوں اور لڑکیوں کی زبردستی شادیاں کروائی جاتی رہیں گی، غیرت کی یہی تشریح سامنے آتی رہے گی۔
جب تک ہم اس بات سے باخبر رہیں گے کہ عورتوں کے استحصال کی وجہ یہ ہے کہ انھیں اپنے جسموں پر کوئی اختیار نہیں، انھیں گھر یا بچوں سے متعلق فیصلوں میں کوئی دخل نہیں، اس وقت تک مرد غیرت کی تفہیم کا فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ جب تک ہم عورتوں کو بتاتے رہیں گے کہ انھیں جائیداد کی وراثت کا حق نہیں ہے، ہمیں غیرت کی یہی تعبیر دکھائی جاتی رہے گی۔ جب تک بیواؤں کو زندہ دفنایا جاتا رہے گا، ہمیں یہی غیرت دیکھنے کو ملے گی۔ غیرت مردانہ، امتیازی، موضوعی اور مہلک بن چکی ہے۔
ہمارے داستان نویسوں کی غیرت کے بارے میں داستانیں صرف اسی وقت بدلیں گی جب ہم یہ بات سمجھیں گے، قبول کریں گے اور اس پر عمل کریں گے کہ عورتیں بھی مردوں کے برابر انسان ہیں۔