پاناما لیکس: عدالت کی پی ٹی آئی کے وکیل کو مقدمے پر توجہ مرکوز رکھنے کی ہدایت

    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے مقدمے کی سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکلا کو لندن فلیٹس کی تحقیقات پر توجہ مرکوز رکھنے کی ہدایات کے ساتھ مقدمے کی سماعت 30 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

جمعرات کو تقریباً دو گھنٹوں تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی کے اختتام پر پانچ رکنی بینچ کے جج جسٹس عظمت سعید نے تحریک انصاف کے سینیئر وکیل حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'فوکس کریں آپ فوکس نہیں کر رہے ہیں۔'

یہ ریمارکس انھوں نے حامد خان کی جانب سے پانامہ لیکس سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کی تین اہم تقاریر حرف بہ حرف پڑھ کر سنانے کے بعد دیے۔

عمران خان کے وکیل حامد خان نے جمعرات کی سماعت میں نواز شریف کے خاندان کی جانب سے پیش کی جانے والی دستاویزات پر اپنا ردعمل ظاہر کرنا تھا۔ انھوں نے اس سال تین اپریل کو پانامہ لیکس میں آف شور کمپنیوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم کے پانچ اور 27 اپریل کے قوم سے خطاب اور 16 مئی کو قومی اسمبلی میں کی جانے والی تقاریر سنانا شروع کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے ان تقاریر میں اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر ایک بھی الزام ثابت ہوا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔

اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ یہ سب سیاسی بیانات تھے اور ان کی بنیاد پر کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی ہے۔ 'ان تقاریر کے پڑھنے کا کیا فائدہ ہے؟ اگر ان تقاریر سے تسلی ہو جاتی تو آج ہم یہاں کھڑے نہ ہوتے۔ ہم سب مل کر بعض اوقات معاملات کو سائڈ پر لے جاتے ہیں۔'

حامد خان نے وزیر اعظم کے دونوں بیٹوں کے بیرون ملک کاروبار کی نوعیت کے بارے میں سوال اٹھائے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے نہ تو یہ بتایا ہے کہ وہ کیا کاروبار کرتے ہیں اور کہاں کرتے ہیں، سنہ 1972 میں اتفاق فاؤنڈری کے قومیائے جانے کے بعد جب نواز خاندان دیوالیہ ہوا تو دبئی میں کاروبار کے لیے رقم کہاں سے آئی اور فاؤنڈری جو حکومت نے کھنڈر کی حالت میں واپس کی تو اس کی بحالی کی رقم کہاں سے آئی؟

ایک موقع پر ججوں کی برہمی بھانپتے ہوئے حامد خان نے کہا کہ چلیں اب بات لندن فلیٹس کی کرتے ہیں تو جسٹس عظمت نے کہا کہ 'آپ کو اس پر دو ہزار سال پہلے آ جانا چاہیے تھا۔ آپ ڈھائی گھنٹے سے کیس آگے نہیں لیے جا رہے ہیں۔ آپ سیاست کر رہے ہیں۔ کسی تقریر کی بنیاد پر کیا کچھ ہوسکتا ہے؟'

چیف جسٹس انور جمالی نے کہا کہ ایک گھنٹے کے بعد بھی ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

جسٹس عظمت سعید نے ان سے کہاں کہ نواز خاندان کی دستاویزات پکڑیں اور کچھ نکالیں۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے آج سماعت شروع کی تو ایک مرتبہ پھر ایک درخواست گزار طارق اسد سے دس منٹ تک دوبارہ بحث کی جن کا دوبارہ موقف تھا کہ وزیر اعظم کے علاوہ دیگر پانچ چھ اہم شخصیات جن کے نام پانامہ لیکس میں آئے ہیں ان کی بھی تحقیقات کی جائیں۔

اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں تحریک انصاف کی شواہد پر مبنی دستاویزات کو غلط اور ناقابل قبول قرار دیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے الزامات ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے، عمومی الزامات لگائے گئے ہیں جنھیں وہ پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔

تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کے لیے عدالت میں بظاہر کافی سخت دن تھا۔ جج ان کی کسی بھی بات کو سنجیدہ کوشش نہیں مان رہے تھے۔ عدالت کا وقت ختم ہونے پر سماعت 30 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔