آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لاہور: گرفتاریوں کا خدشہ، درخواست فل بنچ سنے گا
- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور ہائی کورٹ نے دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کے اعلان کے پیش نظر تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خدشات پر مبنی درخواست سماعت کے لیے ہائی کورٹ کے فل بنچ کو بجھوا دی ہے۔
ہائیکورٹ کا تین رکنی فل بنچ 31 اکتوبر سے درخواست پر کارروائی کرے گا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے عوامی تحریک کے رہنما اشتیاق اے چودھری ایڈووکیٹ کی درخواست پر کارروائی کے دوران یہ احکامات دیے۔
درخواست میں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے ممکنہ گرفتاریوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے درخواست ہائی کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس شاہد حمید ڈار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ کو بھجوا دی۔
یہ تین رکنی بنچ پہلے سے دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کے اعلان کے خلاف درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس انوارالحق اور جسٹس قاسم خان شامل ہیں۔
جمعہ کو تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی گرفتاری کے خدشات پر مبنی درخواست پر سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار وکیل اشتیاق اے چودھری نے الزام لگایا کہ حکومت تحریک انصاف کے دو نومبر کو احتجاج ناکام بنانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں استعمال کر رہی ہے۔ اور پولیس تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی گرفتاری کی پکڑ دھکڑ کےلیے ان کے گھر پر چھاپے مار رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وکیل کے مطابق کہ پولیس نے دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے۔
وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ آئین کے تحت احتجاج بنیادی حق ہے کوئی جرم نہیں لیکن دونوں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو ایسے ہراساں کیا جا رہا ہے جیسے وہ کوئی قابل دست اندازی جرم کر رہے ہوں۔
وکیل نے استدعا کی کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی گرفتاریاں روکنے اور انھیں ہراساں کرنے سے روکا جائے۔