سردی لگے تو خوبانی کا ہریسہ اور گرمی لگے تو شربت
- مصنف, عبداللہ فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، شِگر
٭کھانوں کے بارے میں بی بی سی اردو کی سیریز کی چھٹی قسط شمالی علاقہ جات میں خوبانی کے استعمال کے بارے میں ہے۔ اس سیریز سے متعلقہ تحریریں اور ویڈیوز ہر ہفتے بدھ کو ویب سائٹ پر شائع کی جائیں گی۔
پاکستان کے شمالی علاقہ جات اپنے قدرتی حسن اور آب و ہوا کی وجہ سے تو مشہور ہیں ہی لیکن وہاں پیدا ہونے والے پھل اور میوہ جات اِن علاقوں کی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔
خوبانی ان علاقہ جات کا ایک ایسا ہی پھل ہے جو خشک کر کے استعمال کیے جانے کی وجہ سے میوہ جات کے زمرے میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں خوبانی کی ساٹھ مختلف اقسام گلگت، دیامر، غذر اور سکردو میں لگے باغات میں پیدا ہوتی ہیں۔
پاکستان کے شمالی علاقوں میں خوبانی کو نقد آور فصل کا درجہ حاصل ہے کیونکہ اِن علاقوں کی چالیس فیصد دیہی آبادی اس کی کاشت سے منافع کماتی ہے۔
سکردو کے قریب واقع وادی شگر خوبانی کی پیداوار کے لیے مشہور ہے اور یہاں کی خوبانی غذائیت کے لحاظ سے دیگر علاقوں سے بہتر سمجھی جاتی ہے۔

پہاڑوں سے گھری اس وادی میں خوبانی کے چھوٹے بڑے باغات ہیں اور شمالی علاقہ جات میں اس پھل کا استعمال لذیذ پکوانوں کے ساتھ ساتھ موسم کی شدت سے بچاؤ اور صحت سے متعلق شکایات کے تدارک کے لیے بھی ہوتا ہے۔
محمد اسماعیل شگر سے تعلق رکھنے ایک باغبان ہیں جن کے باغ میں خوبانی کی پانچ مختلف اقسام کے پانچ سو درخت ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُن کے مطابق گلگت کی ہلمن نامی خوبانی سب سے زیادہ مشہور ہے جو ذائقے میں میٹھی، نرم اور خوش شکل ہوتی ہے۔
محمد اسماعیل نے بتایا کہ اس کے علاوہ خوبانی کی ایک اور قسم کارفو چُلی ہے جو سُکھا کر کھانے کے بجائے تازہ کھانے میں زیادہ مزیدار لگتی ہے اور ملک شیک، چٹنی، سالن، جیم، شربت اور کیک بنانے میں زیادہ تر اسی قسم کی خوبانیاں ہی استعمال ہوتی ہیں۔
اس کے علاوہ خوبانی کی دیگر اہم اقسام میں مرغولم اور شارہ کارفا شامل ہیں۔
شمالی علاقہ جات کی مقامی آبادی خوبانی کو موسمیاتی بیماریوں کے علاج میں بطور دوا بھی استعمال کرتی ہے۔

جہاں خوبانی کا ہریسہ نزلہ زکام یا سردی لگنے کی صورت میں تین سے چار بار پلانے سے شکایت دور ہوجاتی ہے وہیں موسمِ گرما میں خوبانی کا فرحت بخش شربت گرمی کا احساس دور کرتا ہے۔
شگر کے قریب خوبانی کے مختلف باغات میں خوبانی پر تجربات بھی کیے جاتے ہیں اور محمد اسماعیل نے ہلمن کی شاخ تراشی کر کے ہلمن ہنگول نامی قسم دریافت کی ہے جو ہلمن کے مقابلے میں زیادہ بڑی ہوتی ہے اور اُس میں کیڑا نہیں لگتا۔
محمد اسماعیل کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ جدید تکنیک کے استعمال سے اب اُن کے باغ کی خوبانیاں ضائع نہیں ہوتیں اور وہ اب خوبانی کو سُکھا کر لمبے عرصے تک استعمال کے قابل بنا لیتے ہیں جس سے اُن کی فصل ضائع ہوجانے سے بچ جاتی ہے۔
پاکستان خوبانی کی پیداور کے لحاظ سے دنیا کے اُن ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو ایک لاکھ ٹن سالانہ سے زیادہ خوبانی پیدا کرتے ہیں اور ایک لاکھ بانوے ہزار ٹن سے زیادہ کی پیداوار کے ساتھ پاکستان دنیا بھر میں خوبانی کی پیداوار کا چار اعشاریہ نو آٹھ فیصد حصہ پیدا کرتا ہے۔
تاہم پاکستان میں زرعی تعلیم و تحقیق کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والی خوبانی کی بڑی مقدار خراب راستوں اور موسم کی سختی کی وجہ سے نہ تو شہروں میں آ پاتی ہے اور نہ ہی برآمد کی جاتی ہے۔








