غیر وابستہ ممالک کیا کر رہے ہیں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن یا واشنگٹن کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ ’بدمعاشوں کی گیلری‘ تھی۔ کیوبا کے دارالحکومت ہوانا کے کنونشن پیلس میں غیر وابستہ ممالک کے چودھویں سربراہی سے خطاب کرنے والوں میں ایران کے صدر محمود احمدی نژاد، ونزویلا کے ہیوگو شاویز اور بیلاروس کے سکندر لوکاشنکو شامل تھے۔ اور یہ صرف چند ابتدائی مقررین تھے۔ اجلاس سے خطاب کرنے والے مزید رہنماؤں میں زمبابوے کے رابرٹ موگابے اور شمالی کوریا، سوڈان اور برما کے رہنما شامل تھے۔ کیوبا میں دو ہزار چھ کے اس اجلاس میں تنظیم کے ان رکن ممالک کی طرف توجہ جانا ناگزیر ہے جو ’امریکہ کے نافذ کردہ‘ عالمی نظام کو رد کرتے ہیں۔ یہ سوچ میزبان ملک کیوبا کی سوچ سے ہم آہنگ ہے جو کہتا ہے کہ امریکی بالا دستی معاشی آزادی، خود مختاری اور مساوات کے لیئے اچھی نہیں۔ غیر وابستہ ممالک کی تنظیم کے ایک سو اٹھارہ ارکان ہیں جو ایک تہائی انسانیت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہی ممالک میں امریکہ کے اتحادی انڈیا، جنوبی افریقہ اور سعودی عرب بھی موجود ہیں جو اجلاس میں امریکہ مخالف باتیں سُن رہے ہیں۔ اِجلاس میں مجھے سفارتکار غیر مطمئن اور بے چین نظر آئے اور ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ غلط جگہ پر آ گئے ہوں۔ تو پھر یہ لوگ آخر اس اجلاس میں آئے کیوں؟ ان کی توقعات کیا ہیں؟ غیر وابستہ ممالک کی تنظیم انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں یورپی ممالک کی سابقہ نو آبادیات کی طرف سے اس عزم کا اظہار تھی کہ وہ اپنے مستقبل کے تعین کے لیئے امریکہ اور ماسکو کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ تنظیم کے ارکان نے انڈونیشیا میں باہمی احترام، عدم جارحیت، عدم مداخلت، مساوات اور پُر امن بقائے باہمی کے رہنما اصولوں پر اتفاق کیا۔ لیکن ان اصولوں پر عمل نہیں ہو سکا۔ عراق، ایران اور بھارت اور پاکستان نے آپس میں جنگیں لڑیں۔ کیوبا غیر وابستہ نہیں تھا اور سوویت یونین کے کیمپ میں تھا۔ انیس سو اسّی کی دہائی کے آخر میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا بدل گئی اور دو مرکزی دنیا یک مرکزی ہو گئی۔ تاہم غیر وابستہ ممالک کی تنظیم نہ صرف زندہ ہے بلکہ اس کی رکنیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ہیٹی اور سینٹ کٹس اور نیوس پہلے بار اس کے سربراہی اجلاس میں شریک ہوئے ہیں۔ تو اب اس تنظیم کا کام کیا ہے؟ میں نے کئی سفارتکاروں اور وزراء سے پوچھا کہ وہ کیسے غیر وابستہ ہیں؟ ان کا جواب تھا کہ تنظیم کے نام کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اس کا وجود تاریخ میں ہے لیکن تنظیم بذات خود غیر متعلقہ نہیں۔ بیلاروس کے سفیر نے کہا کہ ’یہ ان کی آواز ہے جو بے آواز ہیں‘۔ امارات سے آئے ایک رہنما نے کہا کہ تنظیم ایک ایسا فورم جہاں وہ نظریات بیان کیئے جا سکتے ہیں جن کو کہیں اور سننے والا کوئی نہیں۔ اجلاس کے دوران لبنان اور صحارا کے بارے میں قراردادوں پر بہت لے دے ہوئی۔ غیر وابستہ ممالک کی تنظیم پر تین برس کے بعد صرف سربراہی اجلاس کے موقع پر وجود میں آتی ہے۔ لیکن کیوبا اس کو بدلنے کے لیئے تنظیم کا مستقل سیکرٹریٹ بنانا چاہتاہے۔ لیکن کچھ دیگر ارکان جیسے کہ بھارت مجھے بتایا گیا کہ اس خوف کی وجہ سے اتنے پُر جوش نہیں کہ تنظیم میں اختیارات سخت گیر مؤقف رکھنے والے ارکان کے پاس نہ چلے جائیں۔ | اسی بارے میں جی آٹھ منصوبے پر عالمی ردِعمل12 June, 2005 | آس پاس مشرف من موہن ملاقات آج ہوگی16 September, 2006 | آس پاس سارک اجلاس: لائن آف کنٹرول سے03 January, 2004 | آس پاس بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||