غزہ: تنخواہوں کی ادائیگی، ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں تشدد کے دو مختلف واقعات میں پانچ فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ فلسطینی حکومت نے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کی ہے جو تین ماہ سے رکی ہوئی تھی۔ حکومت نے نچلے درجے کے تقریباً چالیس ہزار ملازمین سے کہا کہ وہ بینک جا کر ایک مہینے کی تنخواہ وصول کر سکتے ہیں۔ اس اعلان کے بعد بینکوں کے سامنے قطاریں لگنا شروع ہو گئیں۔ حماس کی حکومت مارچ میں اسرائیل، یورپ اور امریکہ کی طرف سے اقتصادی پابندیوں کے بعد سے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دے سکی تھی۔ فلسطینی انتظامیہ کی حکومت کے خلاف یہ پابندیاں حماس کو اسرائیل کو تسلیم کرنے اور تشدد ترک کرنے پر مجبور کرنے کے لیئے کیئے گئے تھے۔ تشدد اس حملے میں ایک حاملہ عورت سمیت دو افراد ہلاک ہوئے۔ حماس نے اس کی ذمہ داری اس سیکیورٹی فورس پر عائد کی ہے جو اس کی مخالف جماعت الفتح کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ غزہ شہر میں ایک مختلف واقعے میں تین مزید افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔ ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے کے پیچھے کون تھا اور یہ واقعہ کیوں پیش آیا؟ یہ واقعہ اس جگہ قریب پیش آیا جہاں کچھ روز قبل ہلاک ہونے والے سیکیورٹی افسر کا سوگ منایا جا رہا تھا۔ ہلاک ہونے والے افسر کے ساتھیوں نے ان کی ہلاکت کے لیئے حماس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ جنوری میں انتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد سے اس کے اور سابقہ حکومت میں شامل جماعت الفتح کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ | اسی بارے میں فلسطین تشدد: حماس کا کارکن قتل24 May, 2006 | آس پاس غربِ اردن میں الفتح کی نئی ملیشیا04 June, 2006 | آس پاس غزہ: اسرائیلی حملے، 7 فلسطینی ہلاک30 May, 2006 | آس پاس حماس کی فوج غزہ کی گلیوں سے واپس26 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||