بیجنگ میں تھوک مخالف مہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیجنگ میں مقامی شہریوں کی جگہ جگہ تھوکنے کی بری عادت کے خلاف مقامی اتنظامیہ نے مہم کا آغاز کر دیاہے۔ یہ مہم بیجنگ اولمپکس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ بیجنگ، سن دوہزار آٹھ کی اولمپکس کھیلوں کا میزبان ہے جبکہ بیجنگ آنے والے سیاح مقامی شہریوں کوجگہ جگہ اور بے تحاشہ تھوکتے دیکھ کر حیران رہے جاتے ہیں۔ اس طرح تھوکنے سے نہ صرف آلودہ ہوتی ہے بلکہ اکثر دکانوں اور ریستورانوں کے فرش بھی تھوک سے آلودہ ملتے ہیں۔ تاہم اب بیجنگ کے شہریوں کو کہا گیا ہے کہ وہ جگہ جگہ تھوکنے کی اپنی اس گندی روایت کو ترک کردیں۔ بیجنگ کے اخلاقی ترقی کے محکمے نے تھوکنے کو شہریوں کی سب سے بری عادت قرار دیا ہے۔ پولیس کو کہا گیا ہے کہ وہ گلیوں میں گھوم پھر کر تھوکنے والوں کے خلاف کارروائی کریں جبکہ انہیں پکڑنے کے لیے کلوز سرکٹ کیمرے بھی استعمال کیے جائیں گے۔ بیجنگ کے اخلاقی اقدار کی ترقی کے محکمے کی ڈائریکٹر ژانگ ہیوگینگ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر نے ہوئے کہا ہے ’اس سال اس شعبے میں قانون کے نفاذ کی کوششوں کو بڑھا دیا جائے گا۔‘ البتہ جو لوگ تھوکنے کی عادت کو ترک نہیں کر سکتے ان کے لیے بھی متبادل انتظام کیا جارہا ہے اور یونیفارم پوش سینکڑوں نگران گلیوں میں گشت کریں گے اور لوگوں کو تھوکنے کے لیے لفافے دیں گے۔ مس ژانگ نے کہا ہے ’آپ ایک ٹشو پیپر یا لفافے میں تھوکیں اور پھر اسے کوڑے دان میں ڈال دیں۔‘انہوں نے کہا کہ اگلے سال شہر کی دوسری بڑی سردردی یعنی گندگی کے خلاف مہم شروع کی جائے گی۔ | اسی بارے میں ایتھلیٹس کے لیے مسلح محافظ03 May, 2004 | کھیل اولمپکس: ’ایتھنز تیار ہوگا‘10 May, 2004 | کھیل ایتھنز اولمپکس کا میزبان12 May, 2004 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||