’میرا بم نہیں چلا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردن کے دارالحکومت امان میں گزشتہ ہفتے کیے جانے والے بم دھماکوں میں مبینہ طور پر حصہ لینے کی خواہش مند ایک عراقی عورت نےٹی وی پر بظاہر اپنے جرم کا اقرار کر لیا ہے۔ ساجدہ مبارک نامی اس خاتون کے بارے میں پولیس نے بتایا تھا کہ وہ اردن میں گزشتہ دنوں خودکش حملہ کرنے والے تین عراقیوں میں سے ایک کی بیوہ ہیں اور وہ خود بھی خود کش حملہ کرنے کی غرض سے ہوٹل میں موجود تھیں۔ ساجدہ مبارک الرشاوی نے ٹی وی پر کہا ’ میرے شوہر نے ایک (بم والی) بیلٹ پہنی ہوئی تھی جبکہ میں نے دوسری اور انہوں نے مجھے بتایا کہ اس بیلٹ کو کیسے استعمال کرنا ہے۔‘ ’ہم دونوں ہوٹل میں گئے اور میرے شوہر نے ایک کونا سنبھال لیا جبکہ میں نے دوسرا۔ ہوٹل میں ایک شادی کی تقریب ہو رہی تھی۔ وہاں بچے اور عورتیں تھیں۔ میرے شوہر نے کامیاب حملہ کیا ۔ میں نے بھی کوشش کی لیکن میں ناکام رہی۔‘ اس سے قبل اردن کے شاہ عبداللہ نے اعلان کیا تھا کہ پولیس نے ایک عورت کو خودکش حملہ کرنے کے ارادے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ان عراقیوں کے خودکش حملوں کے نتیجے میں ستاون افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ملک کے نائب وزیر اعظم مروان معاشر نے کہا ہے کہ گرفتار ہونے والی خاتون ابو مصعب الزرقاوی کے ایک قریبی ساتھی کی بہن ہیں۔ الزرقاوی کی تنظیم اردن میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔ خودکش حملے کرنے والے تین عراقیوں کے نام علی حسین الشمیرری، رواد جاسم محمد عابد (23) اور الصفاء محمد علی(23) ہیں۔ ساجدہ مبارک کی عمر پینتیس سال ہے اور وہ علی حسین کی بیوہ ہیں۔ | اسی بارے میں عمان: 56 ہلاک، سوگ کا اعلان10 November, 2005 | آس پاس اردن کے حملے، القاعدہ کا دعویٰ10 November, 2005 | آس پاس اردن میں خصوصی دعائیں، مظاہرے11 November, 2005 | آس پاس اردن: بم حملے الزرقاوی نے کرائے13 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||