کنٹرول لائن سات نومبر کو کھل جائے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کئی گھنٹوں کے مذاکرات کے بعد پاکستان اور بھارت میں کنٹرول لائن کھولنے پر اتفاق ہوگیا ہے تاکہ زلزلے کے متاثرین کی مدد کی جا سکے۔ کنٹرول لائن سات نومبر کو پانچ مقامات سے کھول دی جائے گی۔ دونوں ملکوں نے کنٹرول لائن کو پار کرنے کے مقامات کے بارے میں تجاویز دی تھیں لیکن اس پر اتفاق نہیں ہو رہا تھا کہ ایسے مقامات کی تعداد کتنی ہوگی۔ تاہم ہفتے کی رات اسلام آباد میں طویل مذاکرات کے بعد اس بات پر اتفاق ہوگیا کہ کنٹرول لائن سات نومبر کو پانچ مقامات سے کھول دی جائے گی۔ کنٹرول لائن کھلنے کے ساتھ ہی دونوں طرف سے امدادی سامان کشمیری زلزلہ متاثرین کو بھیجا جائے گا۔ کنٹرول لائن کھولنے کی تجویز آٹھ اکتوبر کو جنوبی ایشیاء میں بدترین زلزلے کے بعد اولاً بھارت کی طرف سے آئی تھی جس پر پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے 19 اکتوبر کو مظفرآباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کنٹرول لائن کھولنے کی رسمی تجویز پیش کی تھی۔ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے سوا سیاسی جماعتوں نے اس تجویز کی حمایت کی تھی اور حریت کانفرنس کی طرف سے بھی اس تجویز کا خیر مقدم کیا گیا تھا۔ البتہ دنوں ممالک کے درمیان اس بات پر اتفاق نہیں ہورہا تھا کہ کنٹرول لائن کن اور کتنے مقامات سے کھولی جائے۔ پاکستان اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ وہ زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے بھی بھارتی فوجیوں کو اپنی زمین پر قبول نہیں کرے گا جبکہ بھارت کو یہ فکر رہی ہے کہ کہیں کنٹرول لائن سے شدت پسند بھارتی علاقوں میں نہ گھس آئیں۔ تفصیلات آ رہی ہیں - - - - | اسی بارے میں بھارت: خیرمقدم، حریت خوش، جماعت معترض18 October, 2005 | پاکستان پیشکش خوش آئند ہے: میر واعظ18 October, 2005 | پاکستان 'بھارتی فوجیوں کے سوا ہر چیز قبول' 18 October, 2005 | پاکستان متاثرین ایل او سی سے جا رہے ہیں29 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||