کنٹرول لائن کھولنے کا تاریخی معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کئی گھنٹوں کے مذاکرات کے بعد پاکستان اور بھارت میں کنٹرول لائن کھولنے پر اتفاق ہوگیا ہے تاکہ زلزلے کے متاثرین کی مدد کی جا سکے۔ پانچ مقامات سے کنٹرول لائن کھولنے کے لیے ہونے والا معاہدہ سات نومبر سے نافذالعمل ہوگا۔ دونوں ملکوں نے کنٹرول لائن کو پار کرنے کے مقامات کے بارے میں تجاویز دی تھیں لیکن ان پر اتفاق نہیں ہو رہا تھا کہ ایسے مقامات کی تعداد کتنی ہوگی۔ تاہم ہفتے کی رات اسلام آباد میں طویل مذاکرات کے بعد اس بات پر اتفاق ہوگیا کہ کنٹرول لائن سات نومبر کو پانچ مقامات سے کھول دی جائے گی۔ کنٹرول لائن کھلنے کے ساتھ ہی دونوں طرف سے امدادی سامان کشمیری زلزلہ متاثرین کو بھیجا جائے گا۔ پاکستان کی وزراتِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ہفتے کو صدر مشرف کی اس تجویز پر پاکستان اور بھارت کے نمائندوں کے درمیان تین چار مرتبہ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں اور مشترکہ اعلان پر ہفتے کی رات ایک بجے کے قریب دستخط کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو اپنی جامع تجویز میں پانچ نکات دیئے تھے جن پر اتفاق ہوگیا ہے۔ جن مقامات سے لائن آف کنٹرول کھولی جائے گی ان میں نوسیری-ٹیتھوال، چکوٹھی-اُوری، حاجی پور-اُوری، راولاکوٹ-پونچھ اور تتاپانی-میندھر شامل ہیں۔ معاہدے کے اہم نکات
دفترِ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ چونکہ سڑکیں یا ہیں نہیں یا ٹوٹ گئی ہیں لہذا فیصلہ کیا گیا ہے کہ کشمیری کنٹرول لائن پر سڑک کو پیدل ہی پار کریں گے۔ کشمیریوں کے آنے جانے کے کاغذات اسی طریقۂ کار پر بنائے جائیں گے جس پر مظفرآباد-سری نگر بس سروس کا اجراء ہوا تھا۔ البتہ یہ کوشش کی جائے گی کہ اس عمل میں تاخیر نہ ہو اور بیوروکریٹک رکاوٹیں خلل نہ ڈالیں۔ ایک سوال کے جواب میں تسنیم اسلم نے بتایا کہ اس معاہدے میں کسی ٹائم فریم کا تعین نہیں کیا گیا یعنی جب تک یہ چل سکے گا اس چلایا جائے گا۔ آنے جانے والوں میں منقسم خاندانوں کو ترجیج دی جائے گی اور زلزلے سے متاثرہ افراد کو امداد پہنچانے یا تعمیرِ نو کے لیے مختلف تجاویز مقامی حکام ہی کو دی جائیں گی۔ کنٹرول لائن کھولنے کی تجویز آٹھ اکتوبر کو جنوبی ایشیاء میں بدترین زلزلے کے بعد اولاً بھارت کی طرف سے آئی تھی جس پر پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے 19 اکتوبر کو مظفرآباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کنٹرول لائن کھولنے کی رسمی تجویز پیش کی تھی۔ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے سوا سیاسی جماعتوں نے اس تجویز کی حمایت کی تھی اور حریت کانفرنس کی طرف سے بھی اس تجویز کا خیر مقدم کیا گیا تھا۔ البتہ دنوں ممالک کے درمیان اس بات پر اتفاق نہیں ہورہا تھا کہ کنٹرول لائن کن اور کتنے مقامات سے کھولی جائے۔ پاکستان اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ وہ زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے بھی بھارتی فوجیوں کو اپنی زمین پر قبول نہیں کرے گا جبکہ بھارت کو یہ فکر رہی ہے کہ کہیں کنٹرول لائن سے شدت پسند بھارتی علاقوں میں نہ گھس آئیں۔ | اسی بارے میں بھارت: خیرمقدم، حریت خوش، جماعت معترض18 October, 2005 | پاکستان پیشکش خوش آئند ہے: میر واعظ18 October, 2005 | پاکستان 'بھارتی فوجیوں کے سوا ہر چیز قبول' 18 October, 2005 | پاکستان متاثرین ایل او سی سے جا رہے ہیں29 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||