ترکی میں دھماکہ ، چار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی میں ایجئین کے ساحل پر ایک سیاحتی مرکز میں منی بس میں ہونے والے بم دھماکے میں چار افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکہ ترکی کے ساحلی علاقے کساداسی میں ہوا ہے۔ یہاں سے قریب چشمے کے قصبے میں چھ دن قبل بھی ایک دھماکہ ہوا تھا جس میں بیس افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوگان نے اس دھماکے کو دہشت گرد حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس دھماکے کی ذمہ داری کسی پر عائد نہیں کی۔ اس دھماکے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں لیکن پولیس نے خود کش حملے کے امکان کو رد نہیں کیا۔ ترک ٹیلی ویژن کی غیر مصدقہ خبروں کے مطابق یہ حملہ ایک خاتون بمبار نے کیا ہے۔ کرد گوریلوں نے اس علاقے میں اپریل میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔ ماضی میں ترکی میں دائیں اور بائیں بازو دونوں گرہوں سے ہی تعلق رکھنے والے جنگجو دھماکے کرتے رہے ہیں۔ استمبول میں بی بی سی کے نامہ نگار جونی ڈائمنڈ کا کہنا ہے کہ ہفتے کو ہونے والا دھماکہ اگر بم دھماکہ تھا جس کا قوی امکان ہے تو اس کا شبہ کرد مسلح گروہوں پر ہی کیا جائے گا۔ چشمے کے قصبے میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری کرد لبریشن ہاکس نامی ایک تنظیم نے قبول کر لی تھی۔ کرد لبریشن ہاکس ( تاک) نامی تنظم کردستان ورکرز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان نے تشکیل دی ہے۔ کردستان ورکرز پارٹی انیس سو اڑتالیس سے کردستان کی آزادی کے لیے ترکی سے لڑ رہی ہے۔ اس جدوجہد میں سینتیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انیس سو ننانوے میں یک طرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا تھا لیکن یہ جنگ بندی دو ہزار چار تک قائم رہی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||