عراق مشن جاری رہےگا: بُش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کہ صدر جارج بُش نے موصل میں امریکی اڈے پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ عراق میں امریکی فوجی مشن جاری رہے گا۔ انہوں نے یہ بات واشنگٹن کے ایک فوجی ہسپتال میں زخمی فوجیوں کی عیادت کرتے ہوئے کہی۔ صدر بُش نے موصل میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ کرسمس کی وجہ سے یہ واقعہ زیادہ تکلیف دہ ہے۔ منگل کو موصل میں ہونے والے حملے میں انیس امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ تین دیگر مالک سے تعلق رکھنے والے فوجی بھی اس حملے میں ہلاک ہوئے۔ حملے میں ساٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق موصل کے جنوب مغرب میں فوجی کیمپ میں ایک دھماکہ سنائی دیا تھا۔ انصار السنہ نامی ایک تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے خود کش حملہ قرار دیا ہے۔ شمالی عراق میں ٹاسک فورس اولمپیا کے ترجمان کرنل پال ہیسٹنگز کا کہنا تھا تھا کہ ابھی اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکا کہ حملے میں مارٹر استعمال ہوا تھا یا دھماکہ خیز مواد۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی دھماکے سنے اور دھواں اٹھتا ہوا دیکھا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فوجی کیمپ کی طعام گاہ کی دیواریں بہت اونچی تھیں لیکن چھت محفوظ نہیں تھی۔ منگل کے حملے سے پہلے ایک واقعہ میں زیادہ سے زیادہ ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد سترہ تھی جو نومبر دو ہزار تین میں ہیلی کاپٹر گرنے سے ہلاک ہوئے تھے۔ عراق میں پیش آنے والے دیگر اہم واقعات اگست میں اغوا ہونے والے دو فرانسیسی صحافیوں کو رہا کر دیا گیا۔ امریکی ِخبر رساں ادارے اے بی سی نیوز کے سروے کے پیر کو جاری ہونے والے نتائج کے مطابق امریکیوں کی اکثریت اب عراق کی لڑائی کے حق میں نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||