شوکت عزیز اور منموہن سنگھ میں بات چیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز اپنے ہندوستانی ہم منصب منموہن سنگھ سے نئی دہلی میں تقریبا ایک گھنٹے تک بات چیت کی ہے۔ بات چیت کے ایجنڈے کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے لیکن جو اشارے مل رہے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ کشمیر سمیت باہمی امور کے کئی پہلوؤں پر دونوں رہنماؤں نے بات کی ہے۔ بعض اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ بات چیت کے ابتدائی مرحلے میں مسٹر منموہن سنگھ اور مسٹر شوکت عزیز نے کسی معاون کی مدد کے بغیر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستانی وزیراعظم نے مسٹر سنگھ کو کشمیر سے متعلق صدر پرویز مشرف کی حالیہ تجویز باقاعدہ طور پر پیش کی ہے یا نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ کشمیر کے سوال پر مفصل بات چیت ہوئی ہے۔ اس سے قبل مسٹر شوکت عزیز سے پیٹرولیم کے وزیر منی شنکر اییّر نے ملاقات کی تھی اور تقریبا ایک گھنٹے کی کی بات چیت میں ایران گیس پائپ لائن اور وسطی ایشیا تک رسائی کے لیۓ ٹرانزٹ کورو یڈور یا راہداری فراہم کرنے کے سوال سمیت توانائی کے شعبے کے مختلف پہلوؤں پر بات کی گئی ہے۔ مسٹر اییّر نے بعد میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ وقت کی کمی کے سبب یہ بات چیت مکمل نہ ہوسکی لیکن اس میں پیش رفت ہوئی ہے اور توانائی کے شعبے میں اشتراک کی سمت آگے بڑھنے کے لیۓ کافی حد تک راہ ہموار ہوچکی ہے۔ مسٹر اییّر نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے ان خیالات کا اظہار کیا گیا کہ اقتصادی تعاون کے عمل کو سیاسی پہلوؤں سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور اس سلسلے میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی بات کہی گئی۔ وزیر اعظم شوکت عزیز سارک کے سربراہ کے طور پر دلی آۓ ہیں اور انہوں نے اس سلسلے میں ڈھاکہ میں ہونے والے آئندہ سارک سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیۓ مسٹر منموہن سنگھ کو باقاعدہ دعوت نامہ پیش کیا۔ انہوں نے کل وزیر خارجہ نٹور سنگھ اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپیئ سے ملاقات کی تھی اور آج منموہن سنگھ سے ملنے کے بعد وہ صنعت و تجارت کے وزیر سے بات چیت کریں گے۔ مسٹر شوکت عزیز کے ہمراہ وفاقی کابینہ کا ایک اعلی اختیاراتی وفد دلی آیا ہے۔ مسٹر عزیز اپنا دورہ مکل کرنے کے بعد آج ہی دلی سے روانہ ہوجایں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||