بُش کو در پیش چیلنج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بُش امریکیوں کا قائل کرنے میں کامیاب رہے کہ حالت جنگ میں قیادت تبدیل نہیں ہونی چاہیے۔ بُش کے حامی سمجھتے ہیں کہ عالمی سطح پر امریکہ کی طاقت کا مظاہرہ ان کو محفوظ بنا دے گا۔ انہوں نے اُن اخلاقی قدروں سے بھی اتفاق کیا جن کا صدر بُش پرچار کرتے ہیں۔ امریکہ اور دنیا بھر میں صدر بُش کے مخالفین مایوسی کا شکار ہوئے ہوں گے۔ ان کو خدشہ ہے کہ اگلے چار سال دنیا کو امریکہ کے جارحانہ رویے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر بُش عراق میں مشکلات اور اسامہ بِن لادن کی گرفتاری میں ناکامی کے باوجود انتخابات میں کامیاب ہوئے۔ بحیثیت صدر ان کی دوسری مدت میں اسامہ بِن لادن کی گرفتاری یا ہلاکت زیادہ بڑی ترجیح ہو گی۔ آئندہ انتخابات کے موقع پر اسامہ بِن لادن کی وڈیو چیلنج نہیں بلکہ شرمندگی ثابت ہوگی۔ عوام عام طور پر معاملات درست طریقے سے نہ چلنے پر اپنی حکومتوں کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔ ان کو اس آس کی ضرورت ہوتی ہے کہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔ صدر بُش ووٹروں کو قائل کرنے میں کامیاب رہے کہ وہ عراق میں حالات مستحکم کر سکتے ہیں اور القاعدہ کے پاؤں نہیں جمنے دیں گے۔ سن دو ہزار کے برخلاف اس بار صدر بُش اکثریتی ووٹ حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے۔ اس بار ان پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔ ان کامیابی سپریم کورٹ کی مرہون منت نہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس بار پالیسیاں پہلے سے مختلف ہوں گ؟۔ کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ غیر متوقع واقعات پیش آ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر چین تائیوان پر حملہ کر سکتا ہے۔ متوقع مسائل لڑائی میں بدل سکتے ہیں یا مشکل لڑائی میں بھی بدل سکتے ہیں جیسے عراق میں ہوا۔ صدر بُش جرمنی اور فرانس کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے کسی حد تک دوستی کی کوشش کر سکتے ہیں۔ لیکن وقتی طور پر تعلقات کے بدستور سرد رہنے کا امکان ہے۔ لیسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر جان ڈمبرل کے مطابق میں ایک تبدیلی ہوگی کہ ’مزید حملے نہیں ہو گے‘۔ ان کے خیال میں امریکی عوام اور بجٹ دونوں ہی کے اعتبار سے یہ مشکل ہوگا۔ امریکی فوج دو محاذوں پر لڑ سکتی ہے لیکن شمالی کوریا پر حملے کی صورت میں میں عراق میں جنگ پس منظر میں چلی گئی۔ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ یہ کام امریکی فضائیہ کی بجائے اسرائیل کے ہاتھوں ہوگا۔ صدر بُش کے لیے بڑا مسئلہ عراق ہے۔ عراق سے انخلا کی پالیسی مبہم دکھائی دیتی ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اس کا دارومدار عراق میں مستحکم نمائندہ حکومت کے قیام پر ہے۔ اس کے علاوہ کسی پالیسی میں تبدیلی کی توقع نہیں کی جا رہی۔ مشرق وسطیٰ میں یاسر عرفات کی حالت کے بارے میں غیر یقینی پائی جاتی ہے لیکن وہاں امریکہ یا کسی اور کے کردار کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ماحول میں تبدیلی پر صدر بُش سے کیوٹو معاہدے پر دستخط کی توقع نہیں۔ وہ سلامتی کے امور میں الجھے رہیں گے اور لگتا ہے کہ امریکی چاہتے بھی یہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||